برکت اللہ بلوچ 

 کشتی سازی کا فن صدیوں پرانا ہے جس میں وقت کے ساتھ جدت آتی گئی ہے۔اسی طرح منی یعنی گھر کی سجاوٹ کے لیے کشتی بنانا بھی ایک فن ہے جو دیکھنے میں تو بہت آسان لگتا ہے لیکن اس کے لیے بھی خاصی محنت اور ہنر کی ضرورت ہوتی ہے۔ گوادر کے شہنواز بلوچ کافی عرصے سے سجاوٹی کشتیاں بنانے کا کام کر رہے ہیں۔

گوادر کے کشتی سازی کے ماحول میں شہنواز کا خوبصورت کشتیاں بنانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ لیکن لکڑی کو جس انداز سے تراش کر وہ خوبصورت کشتیاں بناتے ہیں دیکھنے والے بس دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے ابتداء میں اپنے گھر کے ایک کمرے کو ورکشاپ میں تبدیل کیا  جہاں انہوں نے محلے کے نوجوانوں کو یہ ہنر سکھانا شروع کیا۔

اسی لیے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹرینگ کمیشن نے نوجوانوں کو یہ ہنر سکھانے کے لیے ان کی خدمات حاصل کیں اور انہیں بوٹ کیمپ میں بطور ٹرینر کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔

شاہنواز بلوچ نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت  تقریبا 30کے لگ بھگ نوجوان ان سے یہ ہنر سیکھ رہے ہیں۔ شاہنواز نے کہا کہ انھیں یہ فن وراثت میں ملا ہے جو انہوں نے  اپنے والد کو دیکھ کر شروع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا یہ ایک محنت طلب کام  ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ وقت دینا پڑتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ہاتھ سے بنے سوینیئر خلیجی ممالک اور خاص کر ایران تک جاتے ہیں جہاں انہیں لوگ بہت پسند کرتے ہیں۔

شاہنواز گوادر میں ایک تربیتی سینٹر قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں وہ نوجوانوں کو تربیت دیکر اپنا فن ان کو منتقل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے انہیں حکومتی تعاون کی ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY