علیشبہ آصف
“کبھی کبھی لگتا ہے کہ اصل امتحان رپورٹ تیار کرنا نہیں، بلکہ اسے اپنی اصل شکل میں شائع کروانا ہوتا ہے۔”
یہ کہتے ہوئے ثمر انجم چند لمحوں کے لیے خاموش ہو جاتی ہیں۔ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے صحافت سے وابستہ ثمر انجم کے ذہن میں آج بھی وہ دن تازہ ہے جب کرسمس کے موقع پر انہوں نے ملتان کی مسیحی برادری پر ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی۔ کئی روز تک مختلف بستیوں میں جا کر لوگوں سے ملاقاتیں کیں، ان کے مسائل سنے، تصاویر بنائیں اور ایک ایسی رپورٹ لکھی جس کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ یہ ایک نظر انداز طبقے کی آواز بنے گی۔
لیکن جب اگلے روز اخبار شائع ہوا تو اس میں ان کی رپورٹ موجود ہی نہیں تھی۔
“مجھے اس کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی، لیکن اتنا ضرور سمجھ آ گیا کہ بعض اوقات مسئلہ خبر کی اہمیت نہیں بلکہ اس کا موضوع ہوتا ہے۔”
ثمر انجم کے مطابق یہ پہلا تجربہ نہیں تھا۔ 2020 میں بھی مذہبی اقلیتوں کے مسائل پر ان کی تیار کردہ ایک رپورٹ اشاعت سے قبل اس حد تک ایڈٹ کی گئی کہ اس کا بنیادی مقصد ہی تبدیل ہو گیا۔ ان کے بقول اس تجربے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ مذہبی اقلیتوں پر رپورٹنگ کا سب سے بڑا امتحان صرف فیلڈ میں نہیں بلکہ نیوز روم میں بھی ہوتا ہے، جہاں بعض اوقات ادارتی احتیاط اور حساسیت خبر کی اصل روح کو متاثر کر دیتی ہے۔
یہ صرف ثمر انجم کی کہانی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب میں مذہبی اقلیتوں پر رپورٹنگ کرنے والے متعدد صحافیوں کی مشترکہ حقیقت ہے۔ ایسے صحافی صرف معلومات جمع نہیں کرتے بلکہ انہیں سکیورٹی خدشات، سماجی دباؤ، ادارتی احتیاط، مستند اعداد و شمار کی کمی، نفرت انگیز ردعمل اور بعض اوقات براہِ راست دھمکیوں جیسے چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جنوبی پنجاب میں مسیحی برادری خطے کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت ہے۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق اس خطے میں مسیحیوں کی آبادی تقریباً ساڑھے پانچ سے ساڑھے چھ لاکھ کے درمیان ہے جبکہ ہندو برادری کی آبادی ایک لاکھ سے زائد ہے۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں رہنے والی مذہبی اقلیتیں برسوں سے قبرستانوں کی کمی، معیاری تعلیم اور صحت کی محدود سہولیات، روزگار میں امتیازی رویوں، صاف پانی کی فراہمی اور عبادت گاہوں کی سکیورٹی جیسے مسائل کی نشاندہی کرتی رہی ہیں، تاہم ان مسائل کو مستقل بنیادوں پر میڈیا میں جگہ دلانا اب بھی آسان نہیں۔
ثمر انجم کہتی ہیں کہ اپنے صحافتی کیریئر کے آغاز میں کئی مرتبہ انہیں مذہبی تقریبات کی کوریج سے صرف اس خدشے کے باعث روک دیا گیا کہ کہیں کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا نہ ہو جائے۔ ان کے مطابق صحافی کی حفاظت یقیناً ضروری ہے، لیکن اگر اسی بنیاد پر حساس موضوعات کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہے تو متاثرہ طبقات کی آواز کبھی عوام تک نہیں پہنچ سکے گی۔
ان کے نزدیک مذہبی اقلیتوں پر رپورٹنگ کا سب سے اہم پہلو اعتماد قائم کرنا ہے۔
“جب لوگ محسوس کرتے ہیں کہ آپ ان کی بات ایمانداری اور ذمہ داری سے آگے پہنچائیں گے تو وہ اپنے مسائل بیان کرتے ہیں، ورنہ خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔”
تاہم یہ مشکلات صرف ثمر انجم تک محدود نہیں۔
حصہ دوم
ثمر انجم کے تجربات کی طرح سینئر صحافی شیر علی خلفی، جو گزشتہ دس برس سے مذہبی اقلیتوں کے مسائل پر رپورٹنگ کر رہے ہیں، سمجھتے ہیں کہ اس شعبے میں سب سے بڑی رکاوٹ صرف سکیورٹی خدشات نہیں بلکہ مستند اور جامع معلومات تک رسائی بھی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان میں مذہبی اقلیتوں سے متعلق ایسا کوئی مرکزی نظام موجود نہیں جہاں سے تمام ضروری معلومات ایک ہی جگہ دستیاب ہوں۔ نتیجتاً صحافیوں کو مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کر کے ان کی الگ الگ تصدیق کرنا پڑتی ہے، جس سے نہ صرف رپورٹنگ کا عمل طویل اور پیچیدہ ہو جاتا ہے بلکہ غلطی کی گنجائش بھی بڑھ جاتی ہے۔
شیر علی خلفی 2018 میں آسیہ بی بی کیس کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو اپنے صحافتی کیریئر کے مشکل ترین ادوار میں شمار کرتے ہیں۔
ان کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں احتجاج، سڑکوں کی بندش اور کشیدہ ماحول نے مذہبی اقلیتوں سے متعلق رپورٹنگ کو غیر معمولی حد تک حساس بنا دیا تھا۔ اس دوران صرف عام شہری ہی نہیں بلکہ کئی سرکاری شخصیات بھی میڈیا پر مؤقف دینے سے گریز کر رہی تھیں، جبکہ متاثرہ افراد اپنی شناخت ظاہر کرنے سے خوفزدہ تھے۔
“ایسے ماحول میں صحافی کو ہر لفظ کئی بار سوچ کر لکھنا پڑتا ہے، کیونکہ معمولی سی غلطی بھی بڑے تنازعے کو جنم دے سکتی ہے۔”
وہ بتاتے ہیں کہ اپنے صحافتی کیریئر کے دوران سکیورٹی خدشات کے باعث انہیں دو مرتبہ فریڈم نیٹ ورک سے بھی معاونت حاصل کرنا پڑی۔ ان کے مطابق بعض اوقات صحافی صرف خبر رپورٹ نہیں کرتا بلکہ خود بھی خبر کا حصہ بن جاتا ہے۔
اسی نوعیت کے تجربات سینئر رپورٹر رانا جاوید نے بھی کیے، جو کئی برسوں سے ملتان میں مختلف اخبارات کے لیے مذہبی اقلیتوں کے مسائل پر رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔
رانا جاوید کے مطابق اقلیتی برادریوں سے متعلق ہر خبر صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ متعدد مواقع پر انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ایک مرتبہ فیلڈ رپورٹنگ کے دوران نامعلوم افراد نے انہیں روک کر حساس مذہبی معاملات سے دور رہنے کا مشورہ بھی دیا۔
ان کے مطابق ایسے حالات میں صحافی صرف اپنی خبر مکمل کرنے کے بارے میں نہیں سوچتا بلکہ اپنے ذرائع اور اپنی حفاظت کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔
“ہم حساس علاقوں میں جاتے وقت مقامی افراد کو اعتماد میں لیتے ہیں، اکیلے جانے سے گریز کرتے ہیں اور اگر خطرات زیادہ ہوں تو بعض اوقات رپورٹ کی اشاعت بھی مؤخر کرنا پڑتی ہے۔”
صحافیوں کے ان تجربات کے برعکس، خود مسیحی برادری کا کہنا ہے کہ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں میڈیا نے ان کے مسائل کو پہلے سے زیادہ جگہ دی ہے، لیکن اب بھی کئی بنیادی مسائل قومی سطح پر مستقل توجہ حاصل نہیں کر پاتے۔
ملتان میں مسیحی برادری کے نمائندے اور چرچ انتظامیہ سے وابستہ سرفراز کلائمٹ کے مطابق قبرستانوں کی کمی، تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار میں مساوی مواقع اور عبادت گاہوں کی سکیورٹی جیسے مسائل پر مستقل بنیادوں پر رپورٹنگ کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد میڈیا سے بات کرنے سے اس لیے ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ ان کی شناخت سامنے آنے سے انہیں یا ان کے خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ملتان کے مسیحی مذہبی رہنما جون ابراہیم کے مطابق ذمہ دار صحافت مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ان کے بقول، جب میڈیا حقائق پر مبنی اور متوازن رپورٹنگ کرتا ہے تو نہ صرف غلط فہمیاں کم ہوتی ہیں بلکہ مختلف مذاہب کے درمیان اعتماد بھی بڑھتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مذہبی اقلیتوں کے مسائل کو صرف مذہبی تہواروں کے موقع پر نہیں بلکہ پورے سال عوامی مفاد کے مسئلے کے طور پر اجاگر کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے ادارے صحافیوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ملتان کے سٹی پولیس افسر صادق ڈوگر کے مطابق مذہبی نوعیت کے معاملات ہمیشہ حساس ہوتے ہیں، اس لیے صحافیوں کو رپورٹنگ سے پہلے خطرات کا جائزہ لینا چاہیے اور ضرورت پڑنے پر مقامی پولیس کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
ان کے مطابق غیر مصدقہ معلومات یا سنسنی خیزی نہ صرف امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے بلکہ خود صحافیوں کی سکیورٹی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
اسی تناظر میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے دو مرتبہ منتخب ہونے والے کونسل ممبر نزیر احمد کہتے ہیں کہ مذہبی اقلیتوں، خصوصاً احمدی برادری، کو جنوبی پنجاب میں اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق بہت سے افراد اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہوتے ہیں کیونکہ انہیں سماجی بائیکاٹ، نفرت انگیز مہم، تشدد اور امتیازی سلوک کا خدشہ رہتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 20 اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے (UDHR) کا آرٹیکل 18 مذہبی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں، لیکن عملی طور پر کئی مذہبی اقلیتیں ان حقوق سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو پاتیں۔
نزیر احمد کے مطابق مذہبی اقلیتوں سے متعلق رپورٹنگ کرنے والے صحافی بھی اکثر اسی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔
“نفرت آمیز ردعمل، سماجی دباؤ اور بعض اوقات براہِ راست دھمکیوں کے باعث کئی صحافی حساس موضوعات پر خود ساختہ سنسرشپ اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس کا نقصان صرف صحافی کو نہیں بلکہ عوام کے حقِ معلومات کو بھی پہنچتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اگر کسی صحافی کو انسانی حقوق یا مذہبی اقلیتوں پر رپورٹنگ کے باعث خطرات لاحق ہوں تو HRCP اپنے کمپلینٹ سیل کے ذریعے متعلقہ اداروں سے رابطہ، قانونی معاونت اور جہاں ممکن ہو حفاظتی مدد فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
ان کے مطابق میڈیا اداروں کو بھی ایسے صحافیوں کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ معاونت کرنی چاہیے تاکہ حساس موضوعات پر ذمہ دارانہ اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کا سلسلہ متاثر نہ ہو۔
مذہبی اقلیتوں پر رپورٹنگ کے دوران درپیش خطرات صرف نظریاتی یا سماجی دباؤ تک محدود نہیں رہتے بلکہ بعض اوقات صحافیوں کو اپنی جان بچانے کے لیے بھی غیر معمولی فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی صحافی، جنہوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے بتایا کہ مارچ 2024 میں ضلع بہاولپور کی تحصیل حاصل پور میں احمدی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے قتل کے واقعے پر وہ ایک مقامی اخبار کے لیے رپورٹنگ کر رہے تھے۔ ان کے مطابق خبر ابھی شائع بھی نہیں ہوئی تھی کہ مقامی افراد کو معلوم ہو گیا کہ وہ اس واقعے پر معلومات اکٹھی کر رہے ہیں، جس کے بعد انہیں مسلسل دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے بقول مشتعل افراد نے ان کے گھر کا گھیراؤ کیا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، جس کے باعث انہیں اپنی جان بچانے کے لیے شہر چھوڑنا پڑا۔ وہ تقریباً دو سے تین ماہ تک ایک نامعلوم مقام پر مقیم رہے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ واپسی کی صورت میں ان پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ بڑھتے ہوئے دباؤ اور سکیورٹی خدشات کے باعث وہ اس واقعے پر اپنی رپورٹ مکمل نہ کر سکے، جبکہ جس مقامی اخبار کے لیے وہ کام کر رہے تھے، اس نے بھی حالات کے پیش نظر ان کی ملازمت ختم کر دی۔
“اس واقعے کے بعد میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً احمدی برادری، سے متعلق حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرتے ہوئے خوف محسوس کرنے لگا۔”
ان کے مطابق ایسے واقعات صرف ایک صحافی کی پیشہ ورانہ زندگی کو متاثر نہیں کرتے بلکہ حساس مذہبی معاملات پر آزادانہ، غیر جانبدار اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی راہ میں بھی ایک بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
صحافیوں کا کہنا ہے کہ چیلنجز صرف فیلڈ میں نہیں بلکہ نیوز روم میں بھی ان کا تعاقب کرتے ہیں۔
روہی نیوز سے وابستہ سینئر صحافی گوہر رحمان کے مطابق کئی میڈیا اداروں میں مذہبی اقلیتوں سے متعلق خبروں کے لیے غیر تحریری ادارتی حدود موجود ہوتی ہیں تاکہ کسی ممکنہ تنازع سے بچا جا سکے۔
ان کے مطابق احتیاط صحافت کا تقاضا ضرور ہے، لیکن اگر احتیاط اس حد تک بڑھ جائے کہ اہم عوامی مسائل ہی منظر عام پر نہ آ سکیں تو یہ غیر اعلانیہ سنسرشپ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
“احتیاط اور سنسرشپ کے درمیان ایک باریک لکیر موجود ہے، اور صحافت کا اصل امتحان اسی لکیر کو برقرار رکھنا ہے۔”
اسی مؤقف کی تائید بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سابق چیئرمین شعبۂ ابلاغیات ڈاکٹر شہزاد بھی کرتے ہیں۔
ان کے مطابق صحافت کا بنیادی مقصد عوام کو درست، متوازن اور بروقت معلومات فراہم کرنا ہے، لیکن جب ادارتی احتیاط ضرورت سے بڑھ جائے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان انہی طبقات کو پہنچتا ہے جن کی آواز پہلے ہی کمزور ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ مذہبی اقلیتوں سے متعلق رپورٹنگ کو صرف حساس خبر کے طور پر نہیں بلکہ عوامی مفاد، انسانی حقوق اور آئینی ذمہ داری کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، مذہبی رہنماؤں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مؤقف اگرچہ مختلف زاویوں سے سامنے آتے ہیں، مگر ایک بات پر سب متفق نظر آتے ہیں کہ مذہبی اقلیتوں سے متعلق رپورٹنگ غیر معمولی احتیاط، درست معلومات اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔
اس رپورٹنگ میں صحافی کو صرف حقائق جمع کرنے ہی نہیں بلکہ متاثرہ افراد کا اعتماد حاصل کرنے، معلومات کی بار بار تصدیق کرنے، اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانے، ادارتی دباؤ کا سامنا کرنے اور بعض اوقات ذاتی خطرات مول لینے جیسے مراحل سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں مذہبی اقلیتوں پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ اصل چیلنج صرف خبر جمع کرنا نہیں بلکہ اسے حقائق، توازن اور پیشہ ورانہ دیانت داری کے ساتھ عوام تک پہنچانا ہے۔
کیونکہ جب خبر خود خطرہ بن جائے تو صحافت صرف ایک پیشہ نہیں رہتی، بلکہ عوام کے حقِ معلومات، آزادیٔ اظہار اور معاشرے کے کمزور طبقات کی آواز کو زندہ رکھنے کی جدوجہد بن جاتی ہے۔
اس حوالے سے سوشیالوجسٹ اور محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان کے ماہرِ عمرانیات محمد ارقم اقبال کا کہنا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے مسائل پر ذمہ دارانہ اور متوازن رپورٹنگ معاشرتی ہم آہنگی، برداشت اور باہمی اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق عمرانیات کے نقطۂ نظر سے میڈیا صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ مختلف سماجی اور مذہبی طبقات کے درمیان اعتماد پیدا کرنے، غلط فہمیوں کے خاتمے اور مثبت مکالمے کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی اکثر سماجی دباؤ، آن لائن ہراسانی اور شدید تنقید کا سامنا کرتے ہیں، جس کے باعث بعض اوقات اہم مسائل میڈیا کی توجہ سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو حقائق کی مکمل تصدیق، غیر جانبداری، صحافتی اخلاقیات اور قانون کی پاسداری کو ہر صورت مقدم رکھنا چاہیے، جبکہ حکومت، میڈیا اداروں اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحافیوں کو محفوظ ماحول، پیشہ ورانہ تربیت اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کریں تاکہ مذہبی اقلیتوں سے متعلق عوامی مفاد کے معاملات پر بلا خوف و خطر ذمہ دارانہ رپورٹنگ ممکن ہو سکے۔


