چولستان اور جنوبی پنجاب کے سپیرے خانہ بدوشوں کی طرح آبادیوں سے دور جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور اکثر کھلے میدانوں میں ڈیرے ڈالے ہوتے ہیں۔ صبح سویرے یہ اپنی زنبیل اور بین کے ساتھ بستیوں کا رخ کرتے ہیں۔ گلیوں میں گھومتے ہوئے لوگ ان سے سانپ دکھانے کی فرمائش کرتے ہیں۔ سپیرا زمین پر بیٹھ کر پٹاری کھولتا ہے تو پھن پھیلائے سانپ کھڑا ہوجاتا ہے، جسے دیکھ کر بچے اور بڑے خوف اور حیرت سے گھیر لیتے ہیں۔ وہ بین بجاتا ہے اور سانپ اس کی دھن پر جھومتا ہے۔ لوگ اسے پیسے دیتے ہیں جبکہ کئی افراد جڑی بوٹیوں سے بنی دوائیاں بھی خریدتے ہیں۔ سپیروں کا یہ فن نسل در نسل منتقل ہوتا ہے اور باقاعدہ دستاربندی کی رسم سے نیا سپیرا تیار کیا جاتا ہے۔

سپیرے خود کو معاشرے کا فنکار کہتے ہیں جو بین اور سانپ کی حرکات سے لوگوں کو محظوظ کرتے ہیں، مگر اب مہنگائی اور بدلتے دور نے ان کے فن کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ پہلے زمانے میں زمیندار انہیں انعامات سے نوازتے اور شادیوں میں قیمتی سانپ اور خوبصورت بین جہیز میں دی جاتی تھی، مگر اب وہ دور باقی نہیں رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی نسلیں بھی اپنے آباؤ اجداد کے پیشے کو چھوڑ رہی ہیں۔ ایک دلچسپ روایت یہ بھی ہے کہ سپیروں کے بچے سانپ کے ڈنک سے محفوظ سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ پیدائش کے فوراً بعد انہیں سانپ کے زہر کے تریاق کا قطرہ دیا جاتا ہے جس سے عمر بھر کی قوتِ مدافعت پیدا ہوجاتی ہے، یوں یہ فن اور اس کی روایات ایک منفرد تاریخ لیے ہوئے ہیں۔