جی آر جونیجو، مٹھی 

تھرپارکر میں زیر زمین کنویں کا پانی ختم ہونے کے باعث پانی کا بحران  شدت اختیار کر گیا ہے اور تھر کے باسی شدید مشکل میں آ گئے ہیں۔

شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں اور دور دراز علاقں سے ٹینکر والوں سے مہنگے ریٹ پر پانی خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
 تھر کے گاؤں ساتار کے باسی چندو کولھی نے پاک وائسز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، “پہلے ہم تین کلومیٹر دور کنویں سے پانی بھرنے کے لیے جاتے تھے اب وہاں بھی شدید گرمی کے باعث زیرزمین پانی ختم ہو چکا اور اب ہم 7 کلومیٹر شہر سے دور پانی پیسوں سے لینے پر مجبور ہیں۔”

ادھر حکومت کی جانب سے لگائے گئے صاف پانی کے  آر او پلانٹس بھی خراب پڑے ہیں اور اکثر علاقوں میں نھر کا پانی بھی گذشتہ تین ماہ سے نہیں ملا ھے جس کے بعد مٹھی اسلام کوٹ کے باسی بھی کڑوا پانی استعمال کرنے اور ٹینکروں سے مھنگے پانی لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

 دوسری جانب مٹھی میں لگایا جانے والا آر او پلانٹ بھی مٹھی کے باسیوں کی ضرورت آب کو پورا نہیں کر سکا ہے۔

 شہر کو 15 لاکھ گیلن پانی کے بجائے پانچ لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے جو کہ اس کے لکیے ناکافی ہے۔

 زیر زمیں کنویں گرمی کے باعث خشک ہو گئے ہیں اور کنویں پر سارا دن انتظار کرنے کے بعد ہی کچھ پانی ملتا ھے جب کہ مویشی بھی پانی کی قلت کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ لوگ انہیں  تین سے چار دن کے بعد پانی دیتے ہیں۔

 چندو کولھی نے مزید کہا کہ “کڑوا پانی استعمال کرتے ہیں تو بچے بیمار ہو جاتے ہیں ،ہمارے مویشیوں کے لیے بھی تین دن تک پانی نہیں ملتا ہے، ہم انتہائی نازک صورتحال سے گذر رہے ہیں۔ ہم مزدوری کریں یا پانی کی تلاش کریں۔”

پانی کی شدید قلت کے باعث کڑوا پانی استعمال کرنے سے تھر کے بچوں اور بڑوں میں ڈائریا اور دیگر اقسام کی بیماریاں بڑھنے کی اطلاعات آرہی ہیں۔

رائیٹر کے بارے: جی آر تھر کے شہر مٹھی سے پاک وائسز کے لیے بطور سٹیزن جرنلسٹ کام کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here