برکت اللہ بلوچ

’نوجوان ہمارا مستقبل اور ہمارا اثاثہ ہیں” یہ وہ اقرار ہیں جو قومی یوتھ پالیسی کی دستاویز کا حرفِ آغاز اور ہر برسر اقتدار حکمران کی زبان سے خزاں رسیدہ پتوں کی طرح جھڑتے الفاظ ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نوجوان ہی ملک و قوم کا سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہیں۔ نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر ترقی ایک سراب اور خواب کی مانند ہے، نوجوان روشن مستقبل کی ضمانت اور تبدیلی کی علامت ہیں۔ نوجوانوں کے بغیر نہ ترقی کا پہیہ چل سکتا ہے اور نہ مستقبل کے اہداف کا حصول ممکن ہے۔ نوجوان ہی انقلاب کا محور اور قوت ہیں، نوجوانوں میں ہی وقت کا دھارا تبدیل کرنے کی جرآت اور ہمت ہے۔

پاکستان کے لیے نوجوانوں کے اس اثاثہ کی اہمیت اور بھی دوچند ہے کیوں کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس وقت پاکستان کو دنیا میں نوجوانوں کی پانچویں بڑی تعداد کے حامل ملک کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ لیکن آج تک کسی بھی حکومت نے اس کثیر آبادی والے طبقے کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے اور نہ نوجوانوں سے متعلق اپنے وعدوں کی صحیح معنوں میں پاسداری کر کے ان کے فلاح و بہبود کے لیے خاطرخواہ اقدامات اٹھائے ہیں۔

موجودہ حکمران پارٹی پاکستان تحریکِ انصاف کی سیاست کی بنیاد ہی نوجوانوں کی بالادستی کے نعرے پہ رکھی گئی تھی اور نوجوانوں کی شب و روز محنت اور قربانیوں کی بدولت اس جماعت کو آج اقتدار کے ایوانوں تک رسائی بھی مل گئی ہے۔ لیکن نوجوانوں کے حوالے سے کیے گئے بلند و بانگ دعوؤں کو تاحال حقیقت کا روپ ملا ہے اور نہ اس کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ جس کے باعث نوجوانوں کی محرومیوں اور مایوسیوں میں کمی آنے کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اگرچہ موجودہ حکومت نے نوجوانوں کے نام پر ان کی دل جوئی کے لیے چند ایک پروگرامز کا اجرا بھی کیا ہےلیکن پیچیدہ اور مبہم پالیسیوں کے باعث ان پروگرامز کے ثمرات عام نوجوان تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں جس کے باعث موجودہ حکومت سے بھی آس لگائے نوجوانوں کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

ویسے حکمرانوں کے غیرسنجیدہ اور بےاعتنائی پر مبنی رویوں سے ملک کا ہرنوجوان گھائل ہے لیکن بلوچستان کے نوجوانوں پر ان زخموں کے گھاؤ زیادہ گہرے ہیں کیوں کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو غیروں سے زیادہ اپنوں کی بےوفائی کا گلہ ہے۔ بلوچستان اس ملک کا واحد بدقسمت صوبہ ہے جہاں نوجوانوں کے لیے “یوتھ پالیسی”سرے سے ہی موجود نہیں جب کہ ملک کے دیگر صوبوں نے بہت عرصہ قبل اپنے اپنی یوتھ پالیسیاں ترتیب دے کر ان پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ دورِ حکومت میں یوتھ پالیسی کے حوالے سے کچھ سنجیدگی کا مظاہرہ کیاگیا تھا اور اس سلسلے میں چند ڈرافٹس بھی تیار کیے گئے تھے لیکن گزشتہ حکومت کے خاتمہ کے بعد وہ ڈرافٹس قصہ پارینہ بن گئے اور آج تک کسی کو یوتھ پالیسی کا ہوش رہا اور نہ نوجوانوں کو درپیش مسائل سے کوئی دلچسپی۔

یہ امر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پالیسی سازی کے بغیر کوئی بھی عمل کارآمد رہتا ہے اور نہ ممکنہ اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ نوجوانوں کی ترقی اور فلاح بہبود کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کی مشاورت سے ایک ایسی یوتھ پالیسی ترتیب دی جائے جس میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے یکساں مواقع میسر ہوں اور ان کے لیے ایک ایسا سازگار ماحول تخلیق کرنا چاہیے جہاں ان کی خداداد صلاحیتوں کو جلا ملے۔‌ ہمارے معاشرے میں کئی قابل اور باصلاحیت نوجوانوں کی مثالیں موجود ہیں جو مناسب مواقع نہ ملنے اور عدم سرپرستی کے باعث وقت کی بے رحم موجوں کے ہاتھوں ضائع ہو کر گمنامی کی نذر ہوگئے اور اس بدقسمتی کا سلسلہ آج بھی زوروشور سے جاری ہے۔

آج بھی صوبے کے لاکھوں نوجوان بے روزگاری اور منشیات کی لعنت کا شکار ہیں۔ لاکھوں نوجوانوں کو مفت معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات کے مواقع کی کمی، کیریئرکونسلنگ اور بہتر تربیت کی کمی کا سامنا ہے اور ان خرافات کی سب سے بڑی وجہ “یوتھ پالیسی” کا نہ ہونا اور حکمرانوں کی نوجوانوں کے متعلق غیرسنجیدگی ہے۔

اب وقت و حالات کا تقاضا اور ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے کے نوجوانوں کی ضروریات اور مسائل کو سامنے رکھ کر ترجیحی بنیادوں پر ایک ایسی “یوتھ پالیسی” کو ترتیب دیا جائےجس میں ان کے مسائل و مشکلات کا حل اور فلاح و بہبود کا سامان موجود ہو۔ نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ، اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرامز، لیپ ٹاپ سکیم اور اضلاع کی سطح پر یوتھ فیسٹیول کے انعقاد کو لازمی بنا کراس اثاثہ سے چشم پوشی کے بجائے فیض یاب ہونے کا راستہ اپنایا جائے جس میں نہ صرف نوجوانو‍ں بلکہ ملک و قوم کی بھی بھلائی ہے۔

LEAVE A REPLY