یلان زامرانی

منشیات ایک عالمی کاروبار ہے اور بین الاقوامی قوتوں کیلئے ایک منافع بخش کاروبار ہے،بظاہر تو اس کاروبار کو ملکی وبین الاقوامی سطح پر جرم جانا اور مانا جاتاہے لیکن پھر بھی منشیات کے بھوت کو قابو رکھنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

مکران جوکہ تین اضلاع پر مشتمل ایک اہم ڈویژن ہے جسکی ایک جانب ایران اور دوسری جانب طویل ساحلی پٹی ہے اور افغانستان تک پھیلاہوا ہے. جبکہ ملکی وبین الاقوامی مختلف  نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں  کیمطابق مکران منشیات اسمگلنگ کیلئے عالمی روٹ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

اب ظاہر سی بات ہے کہ جو لوگ اس پٹی اور ڈویژن میں رہتےہیں انکا متاثر ہونا یقینی ہے یہی وجہ ہے کہ آج مکران ڈویژن کے تینوں اضلاع پنجگور،تربت اور گوادر میں نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد اس وباء میں پھنس چکی ہے. ایسے میں وہ علاقے جو تعلیمی اور بنیادی ضروریات زندگی سے محروم اور قرون اولیٰ کے منظر پیش کررہےہیں. وہ علاقے زیادہ متاثر ہیں جن میں ضلع کیچ تربت کی تحصیل بلیدہ زامران شامل ہیں۔

گزشتہ دو مہینوں سے بلیدہ زامران میں منشیات کیخلاف عوام اور خصوصاً نوجوان طبقے کی جانب  تحریک چل رہی ہے اس تحریک کا بظاہر کوئی لیڈر نہیں اور علاقے کے باشعور نوجوانوں نے سوشل میڈیا کیمپئن کیساتھ ساتھ مختلف ایریاز میں اس وباء کے نقصانات اور روک تھام کیلئے وال چاکنگ کی ہے جبکہ وقتاً فوقتاً ریلیوں اور مظاہروں کا اہتمام بھی کیا جارہاہے۔

اس سلسلے میں جب پاک وائسز نے لیچ نامی سماجی تنظیم کے صدر عبدالسلام بلیدی سے بات کی جو خود اس وباء کیخلاف جدوجہد کرنے والے رضاکاروں میں شامل ہیں انکا کہنا تھا کہ “اس تحریک میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بطور رضاکار شامل ہیں اس تحریک کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں بلکہ  منشیات کی روک تھام کے سلسلے میں علاقہ کے نوجوانوں کی جدوجہد نے رنگ لائی ہے اور یہ ایک رضاکارانہ تحریک ہے جو جاری ہے.ایک سوال کے جواب میں انکا کہناتھا کہ ہمارے علاقوں میں پہلے منشیات پرچون کی طرح بکتا تھا مگر اس جدوجہد کے بعد منشیات اڈوں کے مالک اکثر منشیات فروش علاقہ کو چھوڈ کر یہاں سے چلے گئےہیں اور منشیات کے عادی افراد کی علاج ومعالجہ کیلئے مختلف رضاکار اپنی مدد آپ سرگرم عمل ہیں جسکے مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

اس جدوجہد میں ایک اور رضاکار صدام آدم شامل ہیں جو پیشے کے اعتبار سے ایک نجی اسکول میں ٹیچر ہیں تاہم وہ اس وباء کیخلاف ہونے والی جدوجہد میں پیش پیش ہیں انکے مطابق منشیات کی روک تھام کیلئے یہ ایک کامیاب اور اور علاقہ گیر عوامی تحریک ہے جسمیں تمام افراد بغیر کسی لالچ اور طمع کے شامل ہیں جسکا مقصد علاقہ سے منشیات کی سدباب کرناہے اس جدوجہد میں مختلف طبقہ فکر کے لوگ شامل ہیں۔

منشیات کی روک تھام اور منشیات اڈوں کی بندش کے بعد جولوگ اس وباء میں پھنسے ہیں انکی دیکھ بھال اور علاج ومعالجہ کیلئے علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت کام کررہےہیں. منشیات کے عادی افراد کا علاج کیسے ممکن ہے؟ کیا ضلع میں کتنے ڈرگز سینٹر فعال ہیں؟ اور ان میں کتنے افراد کو علاج ومعالجہ کی سہولہت فراہم کی جاسکتی ہے؟ اسی پر سوشل ویلفیر کیچ کے ڈپٹی ڈائریکٹر قدیر لقمان سے جب پاک وائسز کے نمائندے نے رابطہ کیا تو انکاکہناتھا کہ ضلع میں مکمل تو پانچ ڈرگز سینٹر ہیں لیکن ان میں صرف تربت سٹی کا ڈرگز سینٹر فعال ہے اسمیں تقریباً 30افراد کو علاج ومعالجہ کی سہولیت فراہم کی جاسکتی ہے جبکہ مزید فنڈز موجودہ حکومت کے تعان سے ریلیز ہوچکی ہیں امیدہیکہ تربت ڈرگز سینٹر میں تیس سے بڑھ کر بھی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے.جبکہ موجودہ حکومت کی کوشش ہیکہ باقی ڈرگز سینٹر بھی فعال ہوں اور ان پر بھی بہت جلد توجہ دی جائےگی۔

بلیدہ زامران سے تعلق رکھنے والے قلمکار اور ان امور پر نظر رکھنے والے نوجوان بلاول بلوچ نے عوامی جزبے کو سراہتےہوئے کہاکہ اس تحریک سے ضرور عوامی سطح پر آگہی وشعور پھیلے گی جبکہ  منشیات کے اڈہ چلانے والوں کوبھی  کافی حدتک  عوامی غیض وغضب کاسامنا کرنا پڑےگا تو وہ مجبورہونگے کہ اس لعنت کو ترک کریں.امیدہیکہ اس عوامی جدوجہد کے مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

LEAVE A REPLY