برکت اللہ بلوچ

کسی بھی معاشرے میں نوجوانوں کی حیثیت ریڈھ کی ہڈی کے مانند ہوتی ہے۔ معاشرے کی ترقی اور تنزلی میں نوجوان اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے انقلابات ہوں یا تبدیلی کی تحریکیں، نوجوانوں کے کلیدی کردار کے انمنٹ نقوش جابجا نظر آتے ہیں۔ معاشرے میں نوجوانوں کا کردار ایک سفیر کی مانند ہوتا ہے جو معاشرے کے عمومی رویے کی تصویر کشی کرتے ہیں۔ نوجوانوں کا کردار اور افعال کسی بھی معاشرے کی تہذیب و تمدن اور روایات کے امین ہوتے ہیں جس سے برتر اور بدتر معاشرے کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔

نوجوانوں کی بہتر تربیت اور بہبود کسی بھی ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہوتی ہے کیونکہ کسی بھی ریاست کا مستقبل نوجوانوں سے ہی وابستہ ہوتا ہے۔ جنھیں آگے چل کر ریاست کی باگ ڈور سنبھالنا ہوتی ہے۔ معاشرے میں نوجوانوں کو ذمہ دار اور با کردار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ انھیں اچھی تربیت اور بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوانوں کے اندر چھپی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان سے استفادہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی صحیح راہنمائی اور کونسلنگ کی جائے۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ کسی بھی انسان کی کردار سازی اور تربیت میں خاندان کے کردار کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ معاشرہ خاص طور پر تعلیمی ادارے اس ضمن میں سب سے زیادہ اہم کردار کے حامل ہوتے ہیں۔
دنیا میں وہ ممالک خوش قسمت تصور کیے جاتے ہیں جن کی آبادی کا زیادہ تر حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ نوجوانوں کی کثیر آبادی والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ جہاں ایک اندازے کے مطابق نوجوانوں کی آبادی 60 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے منسٹری آف یوتھ افیئرز یا وزارتِ امورِ نوجوانان کا ادارہ موجود ہے۔ جس کا کام نوجوانوں سے جڑے مسائل کی نشاندہی، ان کا ازالہ اور ان کی بہبود کے متعلق پالیسی سازی ہے۔

یوتھ افیئرز کے معاملات کو 2005 میں باقاعدہ منسٹری کی حیثیت دی گئی تھی۔ اس سے قبل 1984 میں پہلی بار نوجوانوں کے امور کو اسپورٹس اور کلچر منسٹری میں شامل کیا گیا تھا۔ جبکہ 2004 میں یوتھ افیئرز ڈپارٹمنٹ کا بھی قیام عمل میں لایا گیا تھا۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو اپنی یوتھ پالیسی ترتیب دینے کا اختیار بھی مل چکا ہے اور اس حوالے سے 2015 میں حکومت بلوچستان نے یوتھ پالیسی کے حوالے سے چند ڈرافٹس بھی ترتیب دیے تھے لیکن پانچ سال گزرنے کے باوجود نہ یوتھ پالیسی کی منظوری اور نفاذ ممکن ہو سکا ہے اور نہ کوئی نئی پالیسی ترتیب دی گئی ہے۔ یوتھ پالیسی 2015 کے چیدہ نکات میں نوجوانوں کو تعلیم کی فراہمی، تفریحی سہولیات اور سماجی برائیوں خاص طور پر منشیات کی لعنت سے تحفظ دینا شامل ہے۔ بلوچستان کے مقابلے میں پنجاب حکومت 2012، ‌خیبرپختون خواہ 2016 اور سندھ حکومت 2018 میں یوتھ پالیسی کی منظوری دے چکے ہیں۔

وزارت یوتھ افیئرز بلوچستان جس طرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں اپنی یوتھ پالیسی کو ترتیب اور منظوری دینے میں ناکام ثابت ہوئی ہے اسی طرح اپنی کارکردگی کے لحاظ سے بھی بدترین ثابت ہوئی ہے۔ وزارت یوتھ افیئرز ہو یا یوتھ افیئر ڈپارٹمنٹ بلوچستان میں سرکاری ریکارڈ کے حدتک وجود تو رکھتے ہیں لیکن عملی طورپر ان کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔

آج گوادر سمیت بلوچستان بھر میں نوجوان منشیات، بیروزگاری اور ناخواندگی جیسی لعنت کا شکار ہیں لیکن یوتھ افیئرز منسٹری خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس وقت بلوچستان میں یوتھ افیئر کی وزارت بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ مشیر اور سیکریٹریز بھی اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جن کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں کروڑوں روپے سرکاری خزانے سے خرچ ہو رہے ہیں لیکن کارکردگی اور عملی اقدامات کے حوالے سے خاطرخواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام ہے۔

یوتھ افیئرز وہ گمنام منسٹری ہے شاید جس کے وزیر کا نام کسی نوجوان کو ازبر نہ ہو۔ آج دیگر صوبوں کے مقابلے میں اس منسٹری کو بلوچستان میں سب سے زیادہ متحرک ہونا چاہیے تھا کیونکہ جن گھمبیر مسائل کا شکار یہاں کے نوجوان ہیں شاید ہی کسی اور صوبے کے ہوں۔ نوجوانوں کو تعلیمی زبوں حالی سے لے کر تفریح کے مواقع تک ہر شعبے میں نظراندازی اور مایوسیوں کا سامنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت بلوچستان میں 18 لاکھ نوجوان بیروزگاری کا شکار ہیں اور اس تعداد میں روز بروز تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور خدشہ ہے کہ اگلے کچھ سالوں میں یہ تعداد دوگنا یا تین گنا ہو سکتی ہے۔

اسی طرح صوبے میں منشیات استعمال کرنے والے نوجوانوں کی تعداد بھی ہوش ربا ہے۔ ایک جائزے کے مطابق بلوچستان میں آبادی کا 1.8 فیصد لوگ مختلف طریقوں سے منشیات کے استعمال میں مصروف ہیں جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے اور اس لعنت کی بھینٹ چڑھنے والوں میں خواتین کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد شامل ہے۔

اسی طرح شرح خواندگی کی مخدوش صورت حال بھی سب کے سامنے ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صوبے کے 1.9 ملین بچے آؤٹ آف اسکول یعنی زیور تعلیم سے محروم ہیں۔

گوادر میں 2017 میں وزارت امور نوجوانان کی جانب سے لاکھوں روپے کی لاگت سے ساحلِ سمندر پر فٹ بال اسٹیڈیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا لیکن آج تک اس اسٹیڈیم میں اس ادارے کی جانب سے کسی سرگرمی کا انعقاد کیا گیا اور نہ وہاں نصب قیمتی اشیا کی دیکھ بھال کی گئی جس کے باعث آج اسٹیڈیم کی حالت زار قابلِ رحم ہے۔

ان تمام نامساعد حالات اور نوجوانوں کو درپیش گھمبیر مسائل کے باوجود بحیثیت ادارہ یوتھ افیئرز بلوچستان کا وجود دیکھنے میں نہیں آتا۔ خوابِ خرگوش کے مصداق یہ ادارہ نہ یہاں کے نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے میں کوئی کردار ادا کر رہا ہے اور نہ انھیں مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنے میں کوشاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بلوچستان کا ہر نوجوان یا تو اس ادارے سے بے خبر ہے یا اس سے نالاں نظر آتا ہے۔

LEAVE A REPLY