برکت اللہ بلوچ

عورت کو صنف نازک سمجھا جاتا ہے اسے ایک کمزور اور ناتواں جنس تصور کرکے آگے بڑھنے، سماجی اور معاشی میدان میں کردار ادا کرنے سے روکا جاتا ہے۔ لیکن عورت نے ان تمام مسائل و مشکلات کے باوجود اپنی عزم و ہمت اور عظمت سے نہ صرف اس سوچ کو غلط ثابت کیا ہے بلکہ زندگی کے ہرشعبے میں اپنا لوہا منواکر اس فرسودہ ذہنیت کو شکست دی ہے۔

گوادر سے تعلق رکھنے والی منیرہ محمد بھی ایک ایسی باہمت لڑکی ہے جس میں آگے بڑھنے کی لگن اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کا ہنر بدرجہ اتم موجود ہے جس نے دیگر لڑکیوں کی طرح چند مخصوص شعبوں کا چناؤ کرنے کے بجائے ایئر پورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) جیسے یونیفارم فورس میں بحیثیت “کارپورل” شمولیت اختیارکرکےاپنے کیریئر کا آغازکیا ہے۔

پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں بچپن سے ہی یونیفارم فورس میں جانے کا شوق تھا وہ دیگر خواتین کی طرح ڈاکٹر اور ٹیچنگ کے شعبے کے انتخاب کے بجائے کچھ منفرد کرنا چاہتی تھیں ان کی خواہش تھی کہ وہ دوسروں سے کوئی منفرد کام کرے اور اسی جزبے نے اسے اے ایس ایف جیسے فورسز کاحصہ بنا دیا اور اس شوق کی تکمیل میں اس کے گھر والوں خصوصاً ماں نے اسے بہت زیادہ سپورٹ کیا اور وہ جو کچھ بھی ہیں اپنی ماں کی بدولت ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ان کے لئے اعزاز کی بات ہے کہ وہ آج اے ایس ایف جیسی فورس کا حصہ ہیں۔

ٹریننگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اے ایس ایف میں ٹریننگ بہت سخت ہوتی ہے ابتدا میں انھیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن جب انسان کا ارداہ پختہ ہوں تو کوئی بھی سختی انھیں ان کے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹاسکتی۔ اسی ٹریننگ کی بدولت نہ صرف وہ آج بندوق چلاسکتی ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ خود اعتمادی بھی آئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انکی اے ایس ایف میں شمولیت کے بعد گوادر کے بہت سی لڑکیوں میں یہ شوق پیدا ہوگیا ہے اور اب بڑی تعداد میں لڑکیاں روایتی شعبوں کو چھوڑ کر اس طرف آنا چاہ رہی ہیں۔

والدین کو بھی چائیے کہ وہ اپنے بچوں کو اعتماد دیں انھیں آگے بڑھنے میں مدد دیں۔ انشاللہ وہ دن دور نہیں جب گوادر کی لڑکیاں زندگی کے ہرشعبے میں اپنا کردار اداکرتے ہوئے نظرآئیں گی۔

LEAVE A REPLY