برکت اللہ بلوچ

ماہیگیر گھرانے سے تعلق رکھنے والی رخسار بلال نے گوادر کے پہلی فیمیل لیکچرار ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں بلوچستان بھر میں تیسری پوزیشن بھی حاصل کی ہے۔

غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی رخسار بلال نے زولوجی سبجیکٹ میں لیکچرار شپ کا امتحان پاس کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ زہانت کسی کی میراث نہیں ہوتی۔ انہوں نے اپنی اس کامیابی سے یہ پیغام دیا ہے کہ کامیابی انکے قدم چومتی ہے جن کے اندر منزل کو پالینے کے تڑپ ہو، ان کی یہ کامیابی نوجوانوں کے لئے نہ صرف قابل تقلید بلکہ مشعل راہ بھی ہے جو ان کو آگے بڑھنے اور ہمت نہ ہارنے کا درس دیتی ہے۔

رخسار بلال انتہائی محنتی اور عزم و ہمت کی پیکر ہیں جنھوں نے نامساعد حالات میں بھی ہمت نہ ہار کر اپنے منزل کو پانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
رخسار بلال نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ لیکچرار بننا شروع سے ان کا خواب تھا لیکن اپنی اس خواب کی تعبیر

کو پانا ان کے لئے اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ ان کا تعلق ایک غریب اور ماہیگیر گھرانے سے ہے. ان کے لئے بڑے اور اچھے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں تھا لیکن ان نامساعد حالات کے باوجود انھوں نے کھبی بھی ہمت نہیں ہاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کامیابی حاصل کرنے کیلئے بڑے تعلیمی اداروں سے ہی فارغ التحصیل ہونا ضروری ہے جبکہ حقیقتا ایسا نہیں ہے کامیابی انسان کی عزم،ہمت اور محنت سے ہی مشروط ہے۔

انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سے لیکر گریجویشن تک گوادر کے سرکاری اداروں سے ہی حاصل کی ہے اور ماسٹر بلوچستان یونیورسٹی سے کیا ہے۔گریجویشن کے بعد ان کے لئے آگے تعلیم حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا کیونکہ ان کے مالی حالات خراب تھے لیکن اس کے باوجود والدین کی سپورٹ کی بدولت یہ ممکن ہوا۔

رخسار بلال کہتی ہیں کہ انھیں اپنی منزل تک رسائی میں بے پناہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے کھبی بھی مایوس ہوکر ہمت نہیں ہاری ہے کیونکہ ہمت ہارنے کا مطلب اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنا ہے جو اسے کسی بھی صورت قبول نہیں تھی۔

نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان مایوسی کا شکار ہیں وہ آگے بڑھنے سے پہلے اپنا حوصلہ ہاردیتے ہیں وہ نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کی جرآت نہیں کرتے لیکن اگر مجھ جیسی غریب گھرانے کی لڑکی ان تمام حالات کا مقابلہ کرکے سرخرو ہوسکتی ہے تو وہ کیوں نہیں ہوسکتے۔نوجوانوں کو حالات سے گھبرانا نہیں چائیے کیونکہ حالات کو تبدیل کرنا انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔انسان اپنی عزم و ہمت سے ناممکن کو بھی ممکن میں تندیل کرسکتا ہے اس لئے نوجوانوں کو آگے بڑھنا چائیے اور اپنے اہداف کا تعین کرکے ان کے حصول کے لئے ہردم کوشش جاری رکھنا چائیے۔

LEAVE A REPLY