قادربخش سنجرانی

پنجگور کے دیہی علاقوں میں صحت کی صورت حال ماضی کی طرح گھمبیر ہے. دیہی علاقوں کے اسپتالوں میں کسی قسم کی سہولت موجود نہیں ہے مرد اور خاتون میڈیکل آفیسرز جو کسی بھی اسپتال میں بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں مگر پنجگور کے کسی بھی بی ایچ یو اور آرایچ سی میں یہ سہولت میسر نہیں ہے۔

اسی طرح فیمیل سیکٹر کی اہم آسامیاں سالوں سے خالی پڑی ہیں. دیہی علاقوں میں صحت کی سہولتوں کے حوالے سے ماضی میں نہ توجہ رہی ہے اور نہ اب لوگوں کے اس اہم بنیادی مسئلے پر توجہ دی جارہی ہے. پنجگور میں لوگ ویسے ہی غربت اور بے روزگاری کی چکی میں پھس رہے ہیں صحت کی ابتر صورت حال نے ان کے معاشی مسائل کو مذید بڑھادیا ہے۔

پنجگور کے گاؤں دیہات سے روزانہ سینکڑوں لوگ زکام، کھانسی، بخار اور معمولی درد کے لیے شہر کا رخ کرتے ہیں جہاں انھیں ٹرانسپورٹ کے مسائل کے ساتھ معاشی مشکلات درپیش رہتی ہیں. پنجگور کے دیہات چالیس فیصد آبادی پر مشتمل ہیں اور تین سالوں سے یہاں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے ایک بھی قابل قدر اقدام سامنے نہیں آیا ہے۔

تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے بھی لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں. ہزاروں کی آبادی کے لیے ماہانہ چند ہزار کی ادویات مہیا کی جاتی ہیں جو محض چند بوتل سیرپ اور ٹیبلٹ ہوتی ہیں اور بعض اوقات مریض سے کہا جاتا ہے کہ خالی بوتل کا بندوبست کریں جس میں کال پول یا کھانسی کے شربت کا آدھا ڈال کر مریض کو دیا جاسکے۔

اسی طرح دیہات کی چالیس فیصد آبادی کے لیے ایکسرے الٹرا ساونڈ کی کوئی مشین موجود نہیں ہے لیبارٹری کا کوئی وجود نہیں ہے. ٹیکوں کے لیے لوگوں کو مجبورا شہر جانا پڑتا ہے. مقامی آبادی کا مطالبہ ہے کہ کلگ، پروم، گچک ،گوارگو اور کیلکور میں جو آرایچ سی اسپتال منظور ہوئے ہیں ان میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی ممکن بناکر ان اسپتالوں میں خالی آسامیوں پر بھرتی کا عمل شروع کیا جائے. صرف نام بدلنے سے دکھی لوگوں کے زخم مندمل نہیں ہوسکتے. پنجگور کے چالیس فیصد آبادی کو ان کے جائز اور بنیادی حق سے محروم رکھنا ظلم کے زمرے میں آتا ہے اور یہاں کی تمام تحصلیں میں انٹر اور ڈگری کالجز کے ساتھ ٹیکنیکل ادارے اور پچاس بیڈڈ اسپتال بنائیں جائیں اور اس طرح کی چیزوں کی زیادہ ضرورت بھی انہی پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو ہے جو اس جدید دور میں بھی ایک بوتل کال پول کے لیے منت سماجت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

LEAVE A REPLY