رحیم یار خان کے اکثر علاقے اس وقت ٹڈی دل کے حملے کی لپیٹ میں ہیں۔ ٹڈی دل نے کسانوں کی فصلوں کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے کسان پریشانی اور اضطراب کی حالت میں ہیں۔

 ٹڈی دل کے حالیہ حملے سے کپاس کی تازہ کاشت کی گئی فصل بھی تباہ ہوگی ہے. عام طور پر کپاس کی فصل، گندم کی فصل کی کٹائی کے فوراً بعد شروع ہوتی ہے. کسانوں کے مطابق اس حملے سے انکے مالی حالات پر بہت گہرا اثر پڑےگا کیوں کے وہ لوگ پہلے ہی کورونا وائرس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوچکے ہیں اور دن بہ دن بڑھتے کیسز سے حالات اور خراب ہورہے ہیں۔

ایک مقامی کسان نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ھوئے کہا ہے کہ چولستان میں زندگی بہت مشکل ہے. ہمیں کبھی خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کبھی ٹڈی دل کھڑی فصلوں کو تباہ کردیتی ہے۔ ہم لوگ معاشی طور پر اتنے مستحکم نہیں کہ اس طرح کے حالات کا سامنا کرسکیں. انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں لاکھوں روپے کا نقصان ہورہا ہے اور پتہ نہیں مزید کتنا نقصان ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں ٹڈی دل کے حملوں کی شدت میں گزشتہ سال سے اضافہ ہوا ہے. پنجاب کی طرح باقی صوبے بھی ان حملوں سے بری طرح متاثر ہوۓ ہیں. گزشتہ ہفتے کراچی میں بھی ٹڈی دل نے فصلوں سمیت گھروں پر بھی حملہ کیا تھا جسکی وجہ سے شہریوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا. بلوچستان میں بھی ٹڈی دل نے کھڑی فصلوں کو تباہ کردیا ہے. کیڑے مار دوا چھڑکنے کے باوجود، ٹڈی دل نے فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے اور کسان ان حملوں کے آگے بے بسی کی تصویربنے ھوے ہیں۔

گزشتہ سال بھی پسنی، پنجگور اور اس کے مضافات میں ٹڈی دل نے زرعی فصلات کو تباہ کردیا تھا. پروم ،کلگ ،گجک، کیلکور میں تیار فصلیں ٹڈی دل کے حملے کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی تھیں جس سے غریب کاشتکاروں کا کروڑوں روپے کا نقصان ہوا تھا۔

اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن نے بھی اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں ٹڈی دل کے حملوں کی وجہ سے پاکستان سمیت متعدد علاقائی ممالک میں رواں سال فوڈ سیکیورٹی کے ممکنہ بحران کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

کاشتکاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بحران کی صورتحال میں ان کی مدد کریں ورنہ انکا ان حالات میں گزارا کرنا ناممکن ہوجاے گا۔

LEAVE A REPLY