برکت اللہ بلوچ

بلوچستان کے ضلع گوادر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد چودہ تک پہنچ گئی ہے. کورونا وائرس کی رپورٹ مثبت آنے والوں میں تحصیلدار گوادر کے علاوہ لیویز فورس کے سات اہلکار بھی شامل ہیں جو جی آئی ٹی قرنطینہ سینٹر میں ڈیوٹی پر تعینات تھے۔

ایران سے آئے کورونا وائرس کے مشتبہ مریض کو کوسٹ گارڈ اور ایف آئی اے نے پکڑ کر لیویز کے حوالے کیا. لیویز حکام نے قرنطینہ کرنے بجائے مشتبہ مریض کو تھانے میں رکھا جہاں سے وائرس لیویز اہلکاروں میں منتقل ہوگیا۔

گوادر سمیت بلوچستان کے ایک درجن سے زیادہ دور دراز علاقوں میں کورونا وائرس کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا تھا. تاہم حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان اضلاع میں وائرس سے متعلق جانچ کی سہولیات میں توسیع کے بعد ان علاقوں میں وائرس کے انفیکشن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

کورونا وائرس کے حالیہ کیسز کی پیش نظر ڈی پی او گوادر نصیب اللہ خان کی خصوصی ھدایت پر ایس ایچ او گوادر طلال جان گچکی انچارج سٹی عبداللہ عابد کی سربراہی میں گوادر پولیس کا جاوید کمپلیکس کے مقام پر سید ظہور شاہمی ایونیو پر اسکپنگ چیکنگ کا آغاز کردیا گیا ہے. موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے. بغیر فیس ماسک کے گھومنے والے شہریوں کو چالان کے ساتھ شہرجانے سے روک کر واپس بھیجا جارہا ہے۔

ایس ایچ او گوادر طلال جان گچکی نے شہریوں کو بلاضرورت گھروں سے نکلنے سے گریز اور ضروت کی صورت میں فیس ماسک یا چادر سے منہ ڈھانپ کر نکلنے کو کہا ہے. انہوں نے مزید کہا کے جو لوگ ایس او پیز کی خلاف ورزی کریں گے، انکے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائیگی. خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرکے قرنطینہ سینٹر میں رکھا جائے۔

LEAVE A REPLY