صداقت بلوچ

گذشتہ دو ماہ سے گوادر کی مقامی آبادی میں کرونا کا وائرس ناپید تھا لوگ مکمل آسودہ اور مطمئن زندگی گذار رہے تھے. صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کاروبار بند کرکے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا۔

پولیس، لیویز آرمی سمیت سیکورٹی فورسز کے گشت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا.جہاں زیادہ تر شہریوں نے رضاکارانہ بنیاد پر خود کو گھروں تک محدود کردیا اور غیر ضروری روابطہ کو ختم کیا گیا وہیں علماء اکرام نے بھی اپنی سماجی زمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے نماز جمعہ کو بھی محدود کردیا۔

تمام تر احتیاطی تدابیر کے باوجود گوادر میں کورونا وائرس کے تحصیلدار گوادر سمیت 14 کیس رپورٹ ہوئے. اسکی زمہ دار کس کے سر پر ڈالی جائے. کس کی غفلت کے باعث گوادر میں کورونا وائرس جیسے موذی مرض نے سر ابھارا۔

پاک ایران سرحد کو مکمل سیل کرنے کے دعوؤں کے باوجود سمندری راستے سے غیر قانونی آمد رفت کا نہ تھمنے والا سلسلہ بدستور جاری رہا. جہاں ضلعی انتظامیہ سرحد کو محفوظ بنانے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے تو دوسری جانب وہ قرنطینہ سینٹرز جہاں گرفتار افراد کو انتظامیہ کی جانب رکھا گیا، ان کی نگہداشت پر معمور ڈاکٹرز پیرامیڈیکس اسٹاف اور سیکورٹی پر معمور لیویز اہلکاروں کو ایک ایک ماسک دیکر قرنطینہ کئے گئے افراد کو آزادانہ گھومنے پھرنے کی آزادی دی گئی۔

جی آئی ٹی قرنطینہ سینٹر تمام تر بنیادی سہولیات سے یکسر محروم ہے. ایک چار پائی ایک بستر کے علاوہ وہاں کوئی سہولیت نہیں. لیویز کے جوان پیرامیڈیکس اسٹاف اور مریض سماجی فاصلے سمیت تمام احتیاطی تدابیر کو بالا تاک رکھ کر آپس میں گھل مل رہے ہیں۔

گوادر کے علاوہ کیچ، پنچگور اور بلوچستان کے دیگر اضلاع کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں جہاں سے غیر قانونی طور سرحد عبور کرنے کا سلسلہ جاری ہے مگر کیچ، پنجگور دیگر اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے غیر قانونی سرحد پار کرنے والوں کو مقامی افراد اور سیکورٹی اہلکاروں سے ملنے دیے بغیر ان کو گرفتار کرکے انکے اضلاع کی جانب روانہ کردیا۔ انہی کوششوں کی وجہ سی ان اضلاع میں کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

مگر گوادر میں میڈیکل اسٹاف کی مخالفت کے باوجود ضلعی انتظامیہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غیر قانونی سمندری سرحد پار کرنے والے گرفتار افراد کے جی آئی ٹی اور عمانی گرانٹ ہسپتال کے قرنطینہ سینٹر میں بغیر کسی سہولیت اور احتیاطی تدابیر کے قیام کا بندوبست کیا. جسکی وجہ سے وہاں سیکورٹی ڈیوٹی پر معمور لیویز کے اہلکار کورونا وائرس کا شکار ہوگئے۔

مقامی افراد کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ جو لوگ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے ذمےدار ہیں، انکے خلاف کروائی کی جائے اور مقامی آبادی کو اس وائرس سے محفوظ بنانے کی کوششوں کو تیز کیا جائے تا کے اسکا پھیلاؤ روکا جاسکے۔

LEAVE A REPLY