قیوم بلوچ

 

گوادر کے نواحی علاقے گنز میں پچهلے کئی ماه سے پانی بحران چل رہا هے جو روز بروز سنگین تر ہورہا ہے. گزشتہ کئی دنوں سے پانی موجود ہی نهیں. پلیری واٹر ٹینک سپلائی انتہائی کم پریشر اور چند گهنٹوں کے لیے کی جارہی ہے جو کہ شہر کی ضروریات کے لئے ناکافی ہے۔

گزشتہ دنوں محکمہ پبلک ہیلتھ نے گنز کے نوجوانوں کے تعاون سے پانوان تا گنز واٹر ٹینک تک جگہ جگہ مین پائپ لائنوں کو چیک کرنے کا کام شروع کیا جو نتیجہ خیز ثابت ہوا۔ مختلف جگہوں پر پائپ لائنوں کو کٹ لگا کر چیک کرنے کے دوران پائپ لائنوں میں درختوں کے جڑوں نے پائپ لائن کو بند کیا تھا جس کی وجہ گنز میں پانی بحران ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

اہلیان گنز اپنے منتخب نمائندوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جو الیکشن کے دوران ووٹ لے کر مسائل سے چشم پوشی اختیار کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت اس مسئلے کا برابر حصہ دار ہے عوام نے موجودہ وزیراعلٰی جام کمال کو اور یعقوب بزنجو کو ووٹ دیا تھا جس کا نتیجہ گنز کے عوام پیاس کی شکل میں بھگت رہے ہیں۔

پانی بحران کو ختم کرنے کا واحد حل نئی پائپ لائن منصوبہ ہے۔ پانوان تا گنز نئی پائپ لائن منصوبے کو جلد از جلد شروع کیا جائے تاکہ لوگوں کو پینے کا پانی میسر آسکے۔

اہلیان گنز نے صوبائی حکومت و ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی کہ فی الفور موٹر پمپ مہیا کیا جائے تاکہ اس پرانے پائپ لائنوں سے پانی کو ٹینکی تک پہنچانے میں مدد ملے۔

LEAVE A REPLY