رفیق چاکر

تحصیل پروم جو زراعت اور اعلی کوالٹی کے کھجوروں کی پیداوار کی وجہ سے ملک بھر میں ایک اہم مقام رکھتا ہے، آجکل منشیات کی لپیٹ میں ہے اور ہر گاؤں میں درجنوں منشیات کے اڈے اور سینکڑوں منشیات فروش اِس کاروبار میں ملوث ہو کر اس قوم کی نوجوانوں کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

پروم سے لےکر کلیری تک سینکڑوں کی تعداد میں منشیات کے اڈے بنائے گئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان اپنی ہاتھوں سے اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کیلئے اس تباہ کُن مرض کا شکار ہیں. منشیات کے بڑھتے رجحان سے علاقے میں چوری، ڈاکہ زنی کی وارداتوں میں روزبروز اضافہ ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

منشیات کے پھیلنے سے علاقے میں چوری کے علاوہ دیگر جرائم کے واقعات رونما ہونا شروع ہوگئے ہیں. علاقے میں منشیات کی تیزی سے پھیلتے ہوئے ماحول کو دیکھ کر گزشتہ دنوں پروم سبزل بازار اور گردو نواح کے خواتین کی ایک بڑی تعداد نے سرپروم جائین میں تحصیلدار کی رہائش اور تحصیل پر دھرنا دینے اور احتجاج کرنے کیلئے ریلی کی شکل میں نکل کر حکمرانوں اور ضلعی انتظامیہ کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کی کوشش کی لیکن علاقہ مکینوں نے اُن کو روک کر حکام بالا اور دیگر زمہ داران کو اُن کا پیغام پہنچانے اور منشیات فروشوں کے خلاف ایکشن لینے کی زمہ داری اپنے سرلی تو خواتین واپس اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوگئیں۔

ریلی کی قیادت کرنے والی بچی حمیرہ صادق نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور اپنے نوجوانوں کو اس حالت میں دیکھ کر ہم شدید پریشانی کا شکار ہیں اور ہمارے گھروں میں کوئی ایسا نوجوان آپ کو نہیں ملے گا جو منشیات کے عادی نہیں ہے اور اُن کی اِس عمل سے ہمارے پورے گھر کا نظام درہم برہم ہے. پروم میں لا تعداد منشیات کے اڈوں اور منشیات فروشوں کے ہونے کے باوجود ضلعی انتظامیہ سمیت پورے سرکاری مشینری اپنی آنکھیں بند کرکے صرف اپنی روٹین کی گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن سڑک کے کنارے ہر گاوں میں سرعام منشیات کے اڈے اُنہیں نظر نہیں آتے۔

انہوں نے ڈپٹی کمشنر پنجگور اسسٹنٹ کمشنر پروم اور تحصیلدار پروم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک دو دن تک انتظامیہ کے زمہ داران نے اس توجہ طلب مسئلہ کو حل کرنے اور منشیات کے اڈوں پر اپنی آپریشن اور اُن کو گرفتار کرنے کیلئے اقدامات نہیں کئے تو تحصیل پروم کا گھیراو کرکے دھرنا دیا جاے گا۔

LEAVE A REPLY