مہک دیوی

قلعہ کوہنہ قاسم باغ کے پیچھے پرہلاد مندر واقع ہے. آج سے 5 ہزار سال پہلے ملتان پرراجا ہرنا کشپ راج کرتا تھا. اپنےآپ کو بھگوان منواتا تھا اور تمام رعایا اُس کی پوجا کرتی تھی۔

ہرنا کشپ کے گھر پرہلاد پیدا ہوے. انہوں نے لوگو ں کو بتایا کے میرے پیتا جی بھگوان نہیں ہیں . البتہ وہ ایک ریاست کے بادشاہ ضرور ہیں. راجا نے اُس پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے. لیکن اُن پر کوئ اثر نہ ہوا۔

ہرنا کشپ کی بہن ہولیکا نے اپنے بھائی ہرنا کشپ سے کہا کے مجھے ماتا شیراں والی کا وردان ہے کہ آگ مجھے نہیں جلا سکتی اس لیےتم سو من لکڑیاں اکٹھا کرو میں پرہلاد کو لے کر اُس میں بیٹھ جاؤں گی. پرہلاد جل جا ئے گا میں بچ جاؤ گی مگر بھگوان نے پرہلاد کو بچا لیا اور ہولیکا جل گئ اور یہاں سے ہو لی کا تہوار شروع ہوا. برائی کی ہار اور اچھائی کی جیت ہوئ۔

لیکن 1992 میں جب با بری مسجد کو گرا دیا گیا تو اُس نےغم و غصے میں پر ہلا د مندر کو گرا دیا گیا.اُس کے بعد سے اب تک پرہلاد مندر اپنی خستہ حالت میں مو جود ہے.یہ ہندوؤں کا قدیم مندر ہے.اور اس پر ابھی تک حکو مت نے کوئ کام نہیں کیا۔

مقامی ہندو برادری کی حکومت سے اپیل ہے کہ پرہلاد مندر کو دوبارہ تعمیر کروایا جائے تاکہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق اپنی عبادت کرسکیں۔

LEAVE A REPLY