عمران کمار

بیبو پردیسی بھیل کا تعلق ایک نہایت غریب خاندان سے ہے. ان کو بچپن سے ہی گانے کا بہت شوق تھا. سندھ کے مشہور سنگر جلال جوگی سے متاثر ہوکر گانے کا شوق پیدا ہوا. بیبو محنت مزدوری کر کے جلال جوگی کی کیسٹس خرید کر سنتے تھے اور ان کی نقل کرنے کی کوشش کرتے. سارا دن گانے کے ساتھ بیبو بکریاں بھی چراتا تھے۔

بیبو پردیسی نے 2008 میں استاد کرشن لعل بھیل (صدارتی ایوارڈ یافتہ) کی شاگردی اختیار کی اور چھوٹے بڑے پروگراموں میں گانا شروع کیا. استاد کرشن لعل ان کو پنجاب پارٹس کونسل میں پرفارمنس کرنے کے لیے لاہور کے مشہور رفعی پیر زادہ تھیٹر میں لے کے گئے۔

حالات کارساز نہ ہونے کے باوجود بیبو پردیسی نے اپنے فن کو جاری رکھتے ہوئے ریڈیو بہاولپور اور انٹرنیشنل بھگتی سادرام میں شرکت کی. محنت کر کے انھوں نے اپنی 3 کیسٹس بھی متعارف کروائیں۔

بیبو پردیسی کی حکومتِ پاکستان سے اپیل ہے کہ چولستان کے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے کچھ کیا جائے. ان کی مالی امداد کی جائے تاکہ وہ غربت کے خوف سے اپنے فن کو ترک نہ کریں بلکہ اس کو مزید آگے لے کر آئیں۔

LEAVE A REPLY