اس سال ، عالمی یوم مزدور آن لائن اور دیگر کورونا وایرس پروف طریقوں کے ساتھ منایا جائے گا مگر غریب مزدور آج بھی سڑکوں کے کنارے روزگار کی تلاش میں بیٹھا ہے
                                                                                                                                       مزدور اینٹوں کے بھٹے پہ کام کرہا ہے

اس سال کارکنوں کے ساتھ یکجہتی زیادہ ہے ، کیوں کہ کورونا وائرس نے پوری دنیا کے اربوں افراد کی زندگی اور معاش کے لئے  خطرہ لاحق کردیا ہے۔ کورونا وائرس نے پوری دنیا پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں

لوہار اپنی دکان پہ گندم کی کٹائی کے اوزاروں کو تیز کررہا ہے
جیسے ہے کوئی گاڑی مزدوروں کے قریب آکے رکتی ہے سب کی کوشش ہوتی ہے کے انکی دیہاڑی لگ جائے

پاکستان، جو کے پہلے ہی معاشی لحاظ سے بہت سی مشکلات کا شکار ہے، وہاں مزدورں کے گھر کورونا وائرس کی وجہ سے فاقے ہورہے ہیں اور دیہاڑی دار طبقے کو بہت سی مسائل کا سامنا ہے

ایک ضعیف مزدور کشتی بنا رہے ہیں جو کے ایک مشکل اور طویل عمل ہے

ہر عالمی یوم مزدور پر یہ عہد کیا جاتا ہے کہ تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا اور مزدوروں کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے مگر یہ خواب ابھی پورا ہونے میں وقت لگےگا

مچھیرے جیلی فش کا شکار کر کے واپس آرہے ہیں

آج جب پوری دنیا مزدوروں کا عالمی دن منا رہی ہے، مزدور آج بھی سڑکوں پے اپنی دیہاڑی کی تلاش میں موجود ہیں اور انکے گھر کا چراغ ٹیب ہے جلےگا جب انکو مزدوری ملے گی

LEAVE A REPLY