
کپاس رحیم یار خان کی پہچان:
ضلع رحیم یارخان جو کپاس کے نام سے دنیا بھر میں مشہور اور ملک کی کل پیداوار کا 15 فیصد کپاس پیدا کرنے والا ضلع تھا۔ لیکن شوگر ملوں کی بہتات اور گنے کی کاشت میں اضافے نے وائٹ گولڈ کپاس پیدا کرنے والے اس ضلع کو بنجر اور سیم زدہ کرنا شروع کردیا ہے ۔
زمین سیم زدہ کیوں ہو رہی ہے؟
ضلع بھر میں گنے کی کاشت کے دوران پانی کا استعمال زیادہ ہوتا ہے جس سے زمین سیم زدہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور خاص طور پر پکے کا وہ علاقہ جہاں سالانہ نہری نظام ہے وہاں پر گنے کی کاشت کی وجہ سے سیم و تھور اور کلر کے مسائل زیادہ ہیں۔

پانچ سال پہلے تک ضلع بھر میں 8لاکھ ایکڑ رقبہ پر کپاس کاشت کی جاتی تھی جو شوگر ملوں اور گناکا شت کی وجہ سے کم ہو کر صرف 4لاکھ ایکڑ رقبہ رہ گیا ہے۔
سیم و تھور اور کلر کی روک تھام کا منصوبہ سرخ فیتہ کا شکار؟
2010 میں سیم و تھور اور کلر کی آگاہی کے سلسلہ میں پنجاب حکومت نے ایک منصوبہ شروع کیا جو فائلوں کی نذر ہو کر رہ گیا۔
رحیم یار خان کے کاشتکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لئے پراجیکٹ دوبارہ شروع کرے تاکے سیم تھور کی وجہ سے متاثر ہونےو الے کاشتکاروں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
محکمہ زراعت کی کاشتکاروں سے اپیل:
محکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر چودھری امتیاز احمد نے پاک وائسز کو بتایا کہ بارشوں کی کمی اور شوگر ملوں میں اضافہ کے باعث کاشتکاروں نےکپاس کاکاشت کرنا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا: “اگر یہی صورتحال رہی تو رحیم یارخان میں کپاس ختم ہو جائے گی اور گنے کی کاشت کا رقبہ بڑھنے سے زمین بنجر ہو جائے گی۔”
انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ کم پانی والی فصلیں کاشت کریں تاکہ زمینوں کو بنجر ہونے سے بچایا جا سکے۔
کاٹن جنرز فورم کے خدشات:
ادھر چئیر مین کاٹن جنرز فورم کے احسان الحق کا کہنا ہے کہرحیم یارخان کو کاٹن زون ڈکلیئر کیا گیا ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ زمین آگلے پانچ سالوں میں بنجر ہوسکتی ہیں اور محکمہ زراعت کی جانب سے کاشتکارو ں کی آگاہی کے لیے کوئی مہم شروع نہیں کی گئی۔


