سلمان شبیر

تربت میں انٹرنیٹ کے نہ ہونے اور ایچ ای سی کے آن لائن کلاسز کے فیصلے کے خلاف شھید فدا چوک پر طلبہ نے احتجاجی ریلی نکالی جس میں طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی سے وابستہ شخصیات کی شرکت۔

احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ رہنمائوں نے ایچ ای سی کی طرف سے آن لائن کلاسز کی تجویز مسترد کرتے ہوئے ان علاقوں میں انٹر نیٹ کی سہولت فراہمی کا مطالبہ کیا جہاں اس وقت یہ سہولت موجود نہیں۔

ریلی میں شامل شرکا نے ایچ ای سی کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوے کہا کہ یہ فیصلہ بلوچستان اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا تعلیمی سیشن تباہ کردے گا۔

پسماندہ علاقوں کے غریب طلبہ لاک ڈائون کی وجہ سے اپنے گھروں میں آچکے ہیں جہاں بدقسمتی سے انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے مگر ایچ ای سی زمینی حقائق کے برخلاف آن لائن کلاسز کے اجراء کا اعلان کرچکی ہے جو قابل افسوس ہے۔

طلبہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایچ ای سی آن لائن کلاسز کے اجراء سے پہلے پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرے یا ایس او پیز کے تحت دیگر اداروں کی طرح یونیورسٹیاں بھی کھول دے. اگر ایسا کرنا ممکن نہیں ہے تو پورے پاکستان کی طلبہ کے ساتھ یکساں رویہ اپنا کر کلاسز اور سمسٹر ملتوی کرے. بصورت دیگر گزشتہ رزلٹ کے مطابق طلبہ کو اگلے سمسٹر یا کلاس میں پروموٹ کرے۔

تربت کے رہائشی پچھلے تین سالوں سے تھری جی اور فور جی موبائل انٹرنیٹ سہولیات سے محروم ہیں۔ موبائل انٹرنیٹ سروس 2017 سے معطل ہے اور ابھی تک اسے بحال نہیں کیا گیا ہے۔ اس معاملے پر حکام کی جانب سے کوئی خاص وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے۔

پی ٹی سی ایل تربت کے کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ کی سروس مہیا کر رہی ہے مگر صارفین ان کی خدمات سے مطمئن نہیں ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ سروسز بھی نہ ہونے کے برابر ہیں اور بل کی مد میں ہزاروں روپے لئے جاتے ہیں۔

سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں اور طلبہ نے متعدد بار اس مسئلے پر آواز اٹھائی ہے اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کریں تاہم ٹیلی کام کمپنیوں اور حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا ہے۔ یہ مسئلہ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے تاکہ تربت کے رہائشیوں خاص طور پر طلبہ کو اچھے معیار کی انٹرنیٹ خدمات مہیا کی جائیں اور وہ اپنی تعلیم کو کورونا وائرس کے دوران بھی جاری رکھ سکیں۔

LEAVE A REPLY