تھرپارکر پاکستان کے سب سے زیادہ پسماندہ علاقوں میں سے ایک ہے. تھر میں ویسے تو کئی مسائل ہیں جو تھر باسیوں کا صدیوں سے مقدر بنتے آ رہے ہیں مگر تھر کا سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ پانی کا ہے. تھرپارکر کی کل آبادی تقریبا 16 لاکھ ہے اور 60 فیصد کے قریب آبادی پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولیت سے محروم ہے۔ تھر کی بیشتر آبادی کا انحصار بارش پر ہوتا ہے. جب بارشیں نہیں ہوتی تو تھر میں شدید خشک سالی ہو جاتی ہے جس سے انسانوں سمیت جانوروں کی بھی اموات ہوتی ہیں۔

تھرپارکر میں بیشتر علاقوں میں زیرزمین پانی پینے کے قابل نہیں ہے. عالمی ادارہ صحت کے مطابق زیرِ زمین نمکیات اور دیگر قدرتی اجزاء کی زیادتی کے باعث تھر میں دستیاب پانی میں سے 80 فیصد پانی انسانوں کے لئے قابل استعمال نہیں ہے. تھر باسی پینے کے میٹھے پانی کے حصول کے لیئے کئی کلومیٹر دور سفر کرتے ہیں. تھر میں صرف جولائی اور ستمبر میں مون سون کے موسم میں بارشیں ہوتی ہیں۔ سال کے باقی مہینوں میں ان کا انحصار زیرِ زمین پانی پر ہوتا ہے جو کنویں کھود کر حاصل کیا جاتا ہے. ان کنووں سے مرد اور خواتیں رسی باندھ کر پانی نکالتے ہیں اور اس کے لیئے اونٹ اور گدھے کا استعمال بھی ہوتا ہے۔

تھر کی خواتین پانی کے حصول کے لیئے صبح و شام پریشان رہتی ہیں. ان خواتین کا روزانہ تین سے چار گھنٹے کا وقت پانی کے حصول کے لیئے ضائع ہو جاتا ہے. دور دراز کے علاقوں سے اپنے سر پر مٹکوں اور دوسرے برتوں میں پانی اٹھانے سے خواتین مختلف بیماریوں اور کمزوری کا شکار ہورہی ہیں. جس کے نتیجے میں ان میں غذائی قلت اور بچوں کا صحتمند پیدا نہ ہونے جیسے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔

تھر کے زیرزمین پانی میں فلورائڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے استعمال سے مختلف بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں. تھرپارکر کے ایک گاؤں مئو اکھیراج کے 100 سے زائد افراد خراب پانی استعمال کرنے کے باعث جسمانی طور معذور ہو چکے ہیں. سماجی کارکن اور پانی پر کام کرنے والی سماجی تنظیم اویئر کے ڈائریکٹر علی اکبر راہموں کا کہنا ہے کہ پینے کا پانی تھر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے. فلورائڈ کی زیادہ مقدار کی وجہ سے تھر کے لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں. تھر کے گاؤں مئو اکھیراج جیسے مسائل دوسرے علاقوں میں بھی ہوتے رہتے ہیں. حکومت کو تھر کے پانی کے مسئلے کا کوئی مستقل حل نکالنا چاہیے۔

 

تھر سے وابستہ سابق وزیراعلی سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کا کہنا ہے کہ تھر میں پانی کی ہمیشہ سے قلت رہی ہے۔ پچھلے 12 سالوں میں اس مسئلے کو حل کرنے کی کوئی خاطر خواہ کوشش نہیں کی گئی۔ آر او پلانٹس کی بندش نے مقامی لوگوں کے مسائل میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ صحرائے تھر کے پانی سے جڑے مسائل کے حل کے لئے ایک پائیدار اور طویل مدتی پلان ناگزیر ہے۔ سابق وزیر اعلی سندھ ارباب رحیم نے تھر کے ہر گاوں تک پائیپ لائینز میں نہری پانی پہنچانے کی اسکیم منظور کی تھی مگر اسکے بعد کی حکومتوں نے اس منصوبے کو رد کر دیا۔

پچھلے چند دنوں سے نہری پانی کی رسائی کے مطالبے کو لے کر سوشل میڈیا پر مہم زور پکڑ چکی ہے. سماجی کارکنان سمیت تھر کے شہریوں نے حکومت کی توجہ پانی کے مسئلے کی طرف دلانے کی کوشش کی ہے. ان سماجی کارکنان کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے بھی گلہ ہے کے انہوں نے تھر کے اس اہم مسئلے پر سرد موہری اختیار کی ہوئی ہے۔

تھر کے سماجی کارکنوں سمیت سندھ کے دوسرے شہروں کے لوگ بھی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کے تھر کے لئے نہری پانی کی فراہمی کے منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تا کہ تھر باسی اپنی پانی کی ضروریات کو پورا کر سکیں. اس مسئلے کے حل سے جہاں پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکےگی بلکہ اس سے جڑے دوسرے مسائل بھی حل ہوجائیںگے اور تھر کے موجودہ خستہ حال صحت کے نظام پر بھی لوڈ کم ہوجاےگا۔

LEAVE A REPLY