عمران کمار

رکشا بندھن کا مطلب حفاطت کا بندھن بھی ہے۔ ہرسال ساون کے آخری ہفتے پوری دنیا میں ہندو برادری بڑے جوش و خروش سے اس تہوار کو مناتی ہیں۔ اس تہوارکے موقع پر بہنیں اپنے بھائیوں کی کلائی پر ایک خاص دھاگا باندھتی ہیں اور تهالی میں دیا، سندھور، چاول اور مٹھائی رکھ کر اپنے بھائی کی آرتی اتارتی ہیں اور بھائی کی لمبی عمر اور صحت کے لیے بھگوان سے دعا کرتی ہیں.بھائی راکھی بندهوا کر بہن کےسرپر شفقت کا ہاتھ پھیرتاہے بہن کی زندگی بهر عزت و آبرو کی حفاظت کا قول قرارکرتا ہے اوراپنی حیثیت کےمطابق تحفے دیتا ہے. گزرے وقتوں میں راجے مہاراجے اپنی بہنوں کو کئی کئی تولے سونے، چاندی اور قیمتی جوہرات تحفے میں دیتے تھے۔

راکھی کے تہوار سے پہلے بہنیں گهر پر راکهی بنانا شروع کر دیتی ہیں اور جو لڑکیاں راکهی نہیں بناسکتی وہ بازار سے خرید لیتی ہیں.چولستان روہی غریب گھروں سےتعلق رکھنے والی خواتین اپنی چونڑی (دوپٹے) سے دهاگا نکل کر اپنے بهائی کو راکهی باندھتی ہیں میٹھائی کی جگہ گڑ سے منہ میٹھا کراتی ہیں. جن لڑکیوں کے بهائی نہیں ہوتے وہ ہمسایوں میں یا رشتےداروں میں کسی کو منہ بولا بهائی بناکرراکهی باندھتی ہیں.اور یہ رشتہ زندگی بهر قائم رہتا ہے۔

رحیم یار خان کے نواحی علاقے چک نمبر 90 پی (ڈھنگراں) میں ہندو برادری کے مزہبی تہوار راکشا بندھن کو جوش و خروش سے منایا گیا.جس میں کیئرڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن اور ریڈ پاکستان کے نوجوانوں نے بھی شرکت کی. ریڈ پاکستان شیڈ فیوچر کی ٹیم نے بچوں میں تحائف بھی تقسیم کیے۔

اس پروگرام کی مہمانِ خصوصی ضلعی رہنما پی ٹی آئی وومن ونگ صائمہ طارق نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے تمام اقلیتوں کو یہاں مزہبی آزادی حاصل ہے. انسانیت کو ایک سمجھ کر ہم ان کے ہر تہوار کو بھرپور جوش و جذبے سے منائیں گے۔

اس پروگرام میں سیاسی و سماجی کارکن مہران ہنری، پنڈت اشوک کمار، راجو رام، جیون جی، کرشن داس ،نادرجسکانی ،امریا لعل، گلوکار بیبُو پردیسی اور پی ٹی آئی رہنما سلطان رائے نے شرکت کی. اس موقع پر پاکستان کی سلامتی کے لئے دوا بھی کروائی گئی۔

ریڈ پاکستان سے مجاہد سلیم اور کیئرڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن سے عمران کمار کا کہنا تھا کہ اقلیتوں ان کے مزہبی تہوار پر گورنمنٹ کی طرف سے چھُٹی ہونی چاہیے تا کہ وہ اپنے تہوار خوشی سے منا سکیں۔

LEAVE A REPLY