قادر بخش سنجرانی

پنجگور میں فراہمی آب کا منصوبہ چار سال بعد بھی مکمل نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے شہری پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اور لوگ مجبورہوکے بور لگاکر پانی کا حصول ممکن بنارہے ہیں۔

بورنگ سے نہ صرف زیرزمین پانی کے زخائر میں خطرناک حد تک کمی واقع ہورہی ہے بلکہ شہریوں کو مالی مشکلات کا بھی سامنا ہے. محکمہ ہیلتھ پنجگور کے تحت سٹی اور قرب وجوار میں فراہمی آب کا منصوبہ جس کا تخمینہ لاگت 35 کروڑروپے ہے، چار سال قبل شروع ہوا تھا مگر تاحال اس سے شہریوں کو پانی کی فراہمی کا سلسلہ شروع نہیں ہوسکا ہے. جس سے لوگ شدید مشکلات اور پریشانی کا شکار ہیں۔

محکمہ پبلک ہیلتھ کے مطابق منصوبے پر بیشتر کام مکمل ہوچکا ہے. کیسکو کو بجلی کے کنکشنز کے لیے پیمنٹ بھی کردی گئی ہے مگر چار ماہ کے طویل دورانیہ میں کیسکو نے کنکشنز لگانے کا عمل شروع نہیں کیا ہے. چتکان اور قرب وجوار کے مکینوں کے مطابق اس بڑے منصوبے کی طوالت شکوک وشبہات کو جنم دے رہی ہے. زیر زمین پائپ یا تو ناکارہ ہورہے ہیں یا جگہ جگہ ترقیاتی کاموں کی وجہ سے ٹوٹ پھوڑ کا شکار ہورہے ہیں۔

محکمہ کی غیر زمہ داری کی وجہ سے یہ منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوسکا ہے اور اس منصوبے کے تمام پیسے ریلیز ہوچکے تھے. شہریوں کا مذید کہنا ہے کہ چتکان اور ملحقہ آبادیاں پینے کے صاف پانی کے لیے سرگردان ہیں. مضر صحت پانی کے استعمال سے مختلف موزی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں جن میں معدہ، گردے اور ہیپاٹائٹس جیسی مہلک مرض شامل ہیں. محکمہ پبلک ہیلتھ اس منصوبے کو فنکشل کرانے کے لیے فوری اقدام کریں بصورت دیگر عوام مجبور ہوکر احتجاج کا راستہ چنننے پر مجبور ہونگے۔

LEAVE A REPLY