قادر بخش سنجرانی

ایران بارڈر کی بندش نے ایک طرف بے روزگاری کی عفریت کو جنم دیا ہے تو دوسری طرف ایران سے آنے والی اشیاء ضروریہ کی بھی شدید قلت کے پیش نظر قیمتوں میں دو سو فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔

پنجگور میں ایرانی گھی پانچ کلو والا ڈبہ 400 سوروپے جبکہ تین لیٹر پکوان تیل کی قیمت میں تین سوروپے اضافہ ہوا ہے. دیگر روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں بھی چارگنا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔

بلوچستان کے مختلف علاقے مکران اور رخشان ڈویژنوں کے سرحدی اضلاع جن میں کیچ گوادر پنجگور واشک خاران نوشکی اور چاغی شامل ہیں ان اضلاع کے لوگوں کا انحصار ایرانی اشیاء پر ہے چاہے وہ کھانے پینے کی اشیاء ہوں یا دیگر روزمرہ استعمال کی چیزیں ہوں سب کے سب ایران سے آتی ہیں۔

مگر جب سے وفاقی حکومت نے ایرانی تیل سمیت دیگر خوردنی اشیاء پر پابندی عائد کررکھی ہے تو سرحدی علاقوں میں بے روزگاری کے ساتھ ساتھ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے محنت کش طبقہ کی معاشی مشکلات میں بے حد اضافہ ہوچکا ہے اور اب وہ نان شبینہ کے محتاج بن کے رہ گئے ہیں پاک ایران بارڈر پر پابندیوں کے باعث کاروبار میں کمی آنے سے بے روزگاری میں بھی شدت پیدا ہوگئی ہے۔

LEAVE A REPLY