رفیق چاکر

پنجگور میں دیگر محکموں کی طرح ضلع کے سب سے بڑے محکمہ صحت کے ادارے سول ہسپتال میں ایک درجن کے قریب ایمبولینس گاڑیاں گزشتہ کئی سالوں سے ناکارہ اور ناقابل استعمال حالت میں کھڑی ہیں۔

کچھ ایسی بھی گاڑیاں ہیں جو بیس تیس سالوں سے ایک ہی جگہ کھڑی ہیں لیکن ایک درجن کے قریب گاڑیاں جو دو تین سال پہلے شوروم سے نکال کر محکمہ صحت کے حوالے کی گئی ہیں. سرکاری اداروں میں دفتر کی مرمت سے لے کر گاڈیوں کی مرمت، تیل اور آئل کی مد میں سالانہ کروڈوں روپے محکموں کو ملتے ہیں جن کو متعلقہ دفتر یا گاڈیوں پر خرچ ہونا ہوتے ہیں. حکومت دفاتر اور زیر استعمال گاڈیوں کی مرمت کے نام متعلقہ محکمے کو کروڈوں روپے اسی مقصد کیلئے دیتے ہیں کہ گاڈیوں کی بروقت مرمت کو یقینی بناکر عوام کو سہولیات فراہم کریں لیکن اکثر محکموں کی بجٹ سے مرمت کے نام پر آنے والی رقم زاتی مقاصد کیلئے خرچ ہوتی ہے۔

ادارے سے تعلق رکھنے والے اک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاک وائسزکو بتایا کہ بیس یا تیس سال سے پہلے کی گاڈیوں کی مرمت اور تیل اور آئل کی خرچ کیلئے ہر سال محکمہ میں کام کرنے والے افسران قومی خزانے سے لاکھوں روپے مرمت کے نام پر نکال کر جیب میں ڈالتے ہیں. اس جرم میں آفیسر سے لے کر کلرک برابر کے شریک ہیں. ذاتی گاڈی کو تیس سالوں تک چلانے کے باوجود ناکارہ ہونے نہیں دیا جاتا لیکن سرکاری گاڈی کو مال مفت دل بے رحم سمجھ کر چلایا جاتا ہے۔

ہسپتال میں تشویشناک حالت میں لائے گئے مریض اسی لئے تڑپ تڑپ کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں کہ ہسپتال میں سہولیات کی عدم فراہمی کیلئے دوسرے بڑے شہر میں مریض کو لے جانے کیلئے ایمبولینس میں ٹائر نہیں ہے یا انجن بالکل ختم ہو چکا ہے۔

LEAVE A REPLY