علیشبہ آصف
جنوبی پنجاب میں 8 فروری 2024 کو ہونے والے انتخابات لڑنے والے امیدواروں نے عوام کو بنیادی سہولیات دینے کے وعدے کیے جس میں تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ بھی سرفہرست تھا جنوبی پنجاب میں اگر لیٹریسی ریٹ کی بات کی جائے تو صرف 48.8 فیصد ہے یعنی 50 فیصد سے زائد لوگ ابھی بھی تعلیم سے دور ہیں 2024 میں ہونے والے انتخابات میں جنوبی پنجاب کی تعلیم بہتر کرنے سے لیکر آؤٹ آف سکول چلڈرن کے لیے منصوبہ بنانے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا مگر 6 مہینے گزر جانے کے بعد بھی تعلیمی معیار میں بہتری نہ آسکی جنوبی پنجاب میں 18 لاکھ 677 بچے اسے ہیں جنہوں نے سکول کو دیکھا تک نہیں جبکہ 7 لاکھ بچے ایسے ہیں جن کو سکول جانا بند کروا دیا گیا۔
ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ملتان ڈویژن میں 1209 سرکاری سکول بنائے گئے ہیں جس میں 12 لاکھ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں پنجاب حکومت کی جانب سے ان بچوں کو مفت کتابیں فراہم کی جاتی ہیں مگر نیا تعلیمی سال شروع ہوئے 6 ماہ گزر گئے سکولوں میں بچوں کے لیے صرف 30 فیصد کتابیں ہی آسکیں جسکی وجہ سے 7 لاکھ 67 ہزار بچوں کے پاس پڑھنے کے لیے کتابیں ہی نہیں موجود گورنمنٹ مسلم ہائ سکول کے پرنسپل کا کہنا ہے کہ انکے سکول میں 2350 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں سے آدھے سے زیادہ بچوں کے پاس کتابیں ہی موجود نہیں ان کے استاد کس طرح پڑھائے ؟؟ سکول میں پڑھنے والے طالب علم علی رضا جس نے نویں جماعت میں 85 فیصد نمبر حاصل کیے انکا کہنا ہے کہ بازار میں کورس 6 سے 7 ہزار میں ملتا ہے جو کہ ہم خرید نہیں سکتے ہمارے والدین ہمیں مشکل سے کھانا کھلاتے ہیں وہ کیسے اتنی مہنگی کتابیں دلائے گے ؟ مجھے پڑھنے کا شوق ہے مگر کتابوں کے بنہ میں کیسے پڑھوں گا اب میرے میڑک میں اچھے نمبر نہ آئے تو ابو سکول بھی نہیں آنے دے گے۔
ڈبل پھاٹک کے رہائشی امجد خان کا کہنا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابات جیتنے سے پہلے کہا گیا تھا کہ سکولوں میں صفائ ستھرائی کے مسائل کو بھی حل کریں گے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ہمارے بچے گندگی میں پڑھتے ہیں یوسف رضا گیلانی اور انکے تینوں بیٹوں نے ملتان سے جیت حاصل کی ہے کیا اب انہیں خیال نہیں عوام کا کیا ہمارے بچوں کو بہتر ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ؟یہ جب ہم سے ووٹ مانگنے آتے ہیں تب تو بہت سے وعدے کرتے ہیں ؟ غریب کے بچوں کے لیے کیا اب تعلیم حاصل کرنا تنگ کر دی جائے گی ؟ دوسری جانب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر طلت حسن کا کہنا تھا کہ سکولوں میں گندگی کے مسائل کی بڑی وجہ درجہ چہارم کے سٹاف کی کمی ہے پچھلے 4 سال سے درجہ چہارم کی 492 سیٹیں خالی ہے سٹاف کی کمی کی وجہ سے سکولوں کی صفائ ستھرائی متاثر ہورہی ہے۔
مون لائٹ سکول کی اساتذہ مریم خان کا کہنا ہے کہ وہ سکول میں آئ ٹی کی واحد استاد ہیں جنکو 5 سیکشن پڑھانے پڑھتے ہیں جبکہ باقی کلاسز میں کمپیوٹر کا مضمون سائنس کا ٹیچر پڑھا رہا ہے استاد کم ہوں گے تو بچوں کو تعلیم کیسے دلوائے گے کتابوں کی کمی کا سامنا ہے جسکی وجہ سے ٹیچرز بچوں کو خود نوٹس بنا کر دیتے ہیں مگر اساتذہ کی تعداد ہی سکولوں میں پوری نہیں ہو گی تو بچوں کو کیسے پڑھائے گے ؟ ملتان ڈسڑکت میں 12 لاکھ بچوں کو 8 ہزار اساتذہ پڑھا رہے ہیں جب اساتذہ کی بھرتیاں نہیں ہوگی تو سکولوں کے نظام کیسے صحیح چلیں گے؟
ڈسڑکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکینڈری سکول شیخ رفیق کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جب تک فنڈز جاری نہیں کیے جائے گے بچوں کے کتابوں سے لیکر اساتذہ کی بھرتیاں نہیں ہوسکتی ہمارے پاس 1209 سکولز کے لیے صرف 11 لاکھ کا این ایس بی فنڈز آیا ہے جس میں سکولوں کے بلز سے لیکر سکولوں میں بچوں کی سہولیات کا خیال رکھنا ہے اب اتنے سے فنڈز سے کیا ہوسکتا ہے ؟ سیاست دانوں کی جانب سے بار بار یہ ہی کہا گیا تھا انتخابات کے بعد ہمارے فنڈز بحال کریں گے ہمارے سکولز سر سبز بنائے جائے گے محکمہ ایجوکیشن جب تک کوئ اقدام نہیں اٹھا سکتا جب تک اسے حکومت کی جانب سے سپورٹ نہ کیا جائے اگر حکومت کی ترجیحات میں سکولز شامل نہیں تو ہم کیا ہی کہہ سکتے ہیں؟
پی پی 218 سے منتخب ہونے والے ایم این اے سلمان نعیم کا کہنا ہے کہ ہم جلد ہی سکولوں کے لیے فنڈز جاری کریں گے ہمیں اندازہ ہے ہمارے لوگ ہمارے بچے مشکل میں ہیں سرکاری سکولوں میں غریبوں کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ہم اسمبلی میں بھی جنوبی پنجاب کے بچوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھاتے ہیں ہمارے ابادی کے آدھے بچے سکول نہیں جاتے جس پہ دل دکھتا ہے جلد ہی وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے سکولوں کی بہتری کے لیے سکیم بنائ جائے گی ہم اپنے سکولوں میں اساتذہ کی بھرتیاں بھی کریں گی جسکی پالیسی پہ ہم کام کر رہے ہیں ہم جانتے ہیں جنوبی پنجاب تعلیم کے لحاظ سے کئ پیچھے ہے حکومت 6 مہینے میں کیا ہی کر سکتی ہے؟ ہم اپنا کام بہتری سے کرنے کی کوشیش کر رہے ہیں آہستہ آہستہ ہی صحیح مگر تبدیلی ضرور آئے گی ملتان شہر کا ہر بچہ تعلیم حاصل کرے گا مجھے خود دکھ ہوتا ہے جب بچوں کے ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے کام کرنے والے اوزاروں کو دیکھتا ہوں تعلیم سب کا حق ہے اور ہم تعلیم کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں جلد ہی نتائج سامنے آئے گے۔


