جس زبان کو آج ہم سرائیکی جانتے ہیں ، لگ بھگ سات عشرے پہلے تک علاقائی لہجے میں فرق کی نسبت سے یہ زبان کئی ناموں سے معروف تھی۔ میانوالی ، ڈیرہ اسماعیل خان سے دادو تک دریائے سندھ کے دائیں اور بائیں آباد بلوچ اور کچھ غیر بلوچ قبائل ، کوہ سلمان کے دوسری جانب سبی کے میدانوں تک اور پھر دریائے سندھ کے بائیں کنارے سے اچھرو تھر ( سفید تھر ) کی گہرائی تک اور پنجاب میں ماجھے سے نیچے بہنے والے دریاؤں کے اطراف بستیوں سے راجستھان سے جا ملنے والے چولستان تک سرائیکی کے ہی تو مختلف لہجے سننے کو ملتے ہیں۔

سندھ اور سبی تک اگر یہ بلوچکی تھی تو دامانِ کوہِ سلیمان  والے اسے دیرے والی سمجھتے تھے ، ملتان کے آس پاس یہ ملتانی تھی تو اٹھارویں صدی میں جنم لینے والی داؤد پوترا ریاست بہاولپور میں یہ ریاستی بن گئی ۔( داؤد پوتروں کے کلہوڑے چچیرے  اسے بلوچکی اور ان کے بعد کوہِ سلیمان کے دامان سے سندھ  میں آ  کر حکمرانی کرنے والے تالپور اسے دیرے والی سمجھتے رہے ) ۔

البتہ یہ قدرتی امر تھا کہ سندھ تا سبی اس بلوچکی پر سندھی و بلوچ لسانی اثرات نے اسے ملتانی ، ریاستی اور ڈیرے والی سے مختلف لہجہ دیا۔ جیسے بنوں اور ڈی آئی خان کی زبان پر پشتو کے اثرات نے اسے پنجابی زدہ کھڑی میانوال سرائیکی سے الگ لہجہ عطا کیا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک ہی بولی عہدِ قدیم سے مختلف رنگوں میں ایک وسیع خطے میں زندہ  ہے کہ جسے اب سرائیکی جنرک نام کی بڑی سی چھتری میسر ہے۔

اب رہا یہ معاملہ کہ سرائیکی لسانی و ثقافتی وجود جیسی کوئی وسیع اور جامع سیاسی و قومیتی شناخت کا بھی وجود ہے ؟ یہ جاننے کے لئے ایک ٹیسٹ کرتے ہیں۔

سندھ میں آپ کسی بھی زرداری ، کھوسے ، چانڈیو ، جتوئی سے پوچھیں تم  سرائیکی ہو ، بلوچ  کہ سندھی ؟ ننانوے فیصد جواب ملے گا بابا میں سندھی بلوچ ہوں اور گھر میں سرائیکی بولتا ہوں ۔ کم و بیش یہی جواب سبی کی سرائیکی/بلوچ  بیلٹ میں بھی ملےگا۔

( اسی کنفیوژن کے سبب انیس سو اٹھانوے کی مردم شماری میں سرائیکیوں کی ملک گیر تعداد صرف چودہ ملین بتائی گئی حالانکہ سرائیکی زبان کا جغرافیائی دائرہ اس سے کہیں بڑا ہے ۔چودہ ملین سے زائد سرائیکی بولنے والے تو صرف سندھ میں ہی ہیں مگر ان میں سے زیادہ تر اپنی لسانی شناخت سندھی ہی سمجھتے ہیں )۔

سن ساٹھ کی دہائی تک جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی لسانی ، نسلی اور سیاسی شناخت کو علیحدہ علیحدہ  خانوں میں رکھا جاتا تھا ۔ وہ تو بھلا ہو سائیں ریاض ہاشمی ، استاد فدا حسین گادی اور ان کے فکری و سیاسی وارثوں کا  کہ آج کم ازکم جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنوں کی حد تک سرائیکی ثقافتی شناخت نے سیاسی شناخت کی مستحکم شکل لے لی ۔

تو کیا ثقافتی و سیاسی شناخت کے حصول کے بعد اگلا مرحلہ انتظامی خود مختاری کا ہے ؟ ہونا تو یہی چاہئے مگر یہاں تک پہنچتے پہنچتے راستے اور پگڈنڈیاں باہم گڈمڈ ہو جاتے ہیں ۔

انیس سو انہتر تک وسیبی سطح پر اگر کوئی قابلِ ذکر سیاسی ہل چل ہوئی تو ون یونٹ کے خلاف قومی مزاحمت اور پھر بہاولپور صوبہ بحالی تحریک کی شکل میں ہوئی کہ جسے ریاست کے سابق شاہی خاندان کی سرپرستی بھی حاصل تھی ۔ بہاولپور متحدہ محاذ کے حمائتیوں میں اکثریتی مقامی باشندوں سے لے کر اٹھارہ سو چھیاسی کے بعد سے ستلج ویلی پروجیکٹ کے ساتھ آنے والے پنجابی کاشتکاروں اور بعد ازاں شمالی ہندوستان کے اردو بولنے والے ہنرمندوں سمیت سب ہی شامل تھے۔

ویسے بھی بہاولپور کا مقدمہ اخلاقی اور سیاسی لحاظ سے ایک عام آدمی کے لئے خاصا طاقتور تھا ۔ یعنی جب ون یونٹ ٹوٹا تو اس نے بلوچستا ن کا نیا صوبہ پیدا کیا مگر بہاولپور نامی پرانا صوبہ غائب کردیا۔سوال یہ تھا کہ بہاولپور کہاں گیا ؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ اگر پاکستان میں شامل ہونے والے اولین وفادار ریاستی حکمران کی مالی و سیاسی قربانیوں اور وفاداریوں کا یہی  صلہ ہے  تو پھر انصاف کے نعرے پر بننے والے پاکستان میں انصاف کس سے مانگا جائے۔

اس سینہ زوری کے خلاف چلنے والی تحریک اتنی شدید تھی کہ بھاشانی سے مودودی تک دائیں اور بائیں بازو کی تقریباً ہر سرکردہ سیاسی شخصیت نے بہاول پور متحدہ محاذ کے منشور کی تائید کی۔ ستر کے انتخابات میں بہاولپور ڈویژن میں پڑنے والے ایک ملین ووٹوں میں سے ستر فیصد محاذ کے حمائیت یافتہ امیدواروں کو پڑے ۔ محاذ اگر انتخابات کے بعد برقرار رہتا تو  نئی اسمبلی میں ایک طاقتور پارلیمانی بلاک ثابت ہو سکتا تھا اور قیادت کی ثابت قدمی بہاولپور صوبہ بحال کروا سکتی تھی۔

پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے ۔ جن پے تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ۔ کسی کو گورنری مل گئی ، کسی کو وزارت ، کسی نے زرعی اصلاحات سے اراضی بچا لی تو کسی نے سفارت پکڑ لی تو کوئی ڈرا دیا گیا یا خود سے ڈر گیا اور بہت سے سرگرم کارکن اس بندربانٹ اور مفاداتی سودے بازی سے دل برداشتہ اپنے آئڈیل ازم  کے ہمراہ گوشہ نشین ہوگئے ۔ یوں ایک شاندار تحریک کا جنازہ تحریک والوں نے ہی پڑھ ڈالا۔

اور پھر کئی برس کے سناٹے سے رفتہ رفتہ سرائیکی سیاسی شناخت کی کونپل پھوٹی لیکن اس کے درخت بننے کا انتظار کرنے سے پہلے ہی بکریوں نے پتے چبانے شروع کردئیے ۔ کبھی اس پودے کو پانی ملا کبھی نہیں ملا ، کبھی کھاد ڈلی کبھی نہ ڈلی ، کبھی کسی نے تھوڑی بہت تراش خراش کی پھر ایسے ہی چھوڑ دیا ۔ درخت بڑھا تو سہی مگر ٹنڈ منڈ ۔

کامریڈ اسرار الحق مجاز سے کسی نے پوچھا ہندوستان میں انقلاب کب آئے گا ؟ مجاز صاحب نے کہا انقلاب تو کل آجائے  مگر کیمونسٹ راستہ روکے ہوئے ہیں۔

میرے سرائیکی قوم پرست دوستوں میں انفرادی سطح پر ایک سے ایک انسانی ہیرا ملے گا ۔ مگر اجتماعی طور پر یہ ایک کنفیوز امت ہے ۔ان میں سے اکثر اصل دشمن سے محتاط رہنے کے بجائے زیادہ تر ایک دوسرے سے محتاط رہتے ہیں ۔ زمینی حقائق کیا ہیں ؟ یہ ان قلندروں کا دردِ سر نہیں۔انہوں نے اپنی اپنی سیاسی دنیا بسا رکھی ہے اور یہ سب اس دنیا  کے مست راجہ ۔ان کی اپنی اپنی خواہشاتی تھیوریاں اور نقشے بازیاں ہیں۔کچھ اوکاڑہ تا ٹھٹہ اور بنوں تا سبی اپنی سرائکستانی خواہشاتی پرکار گھماتے رہتے ہیں۔کچھ میانوالی تا صادق آباد کو ہی سرائیکی جغرافیہ سمجھتے ہیں ۔کچھ چاہتے ہیں کہ اٹھارہ سو اٹھارہ میں رنجیت سنگھ کے صوبہ ملتان پر قبضے سے پہلے اس صوبے کی جو حدود تھیں وہی حدود چاہئیں۔( مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر متحدہ پنجاب کے حامیوں نے رنجیت سنگھ والا پنجاب مانگ لیا تو کیا ہوگا ۔ کیونکہ وہ پنجاب تو پشاور تا دلی اور لاہور تا کشمیر پھیلا ہوا تھا )۔

چند قناعت پسند قوم پرستوں کا خیال ہے کہ جنوبی پنجاب کے تین انتظامی ڈویژن ہی اگر علیحدہ صوبہ بن جائیں تو بھی غنیمت ہے ۔ اور کچھ صرف بہاول پور ڈویژن کو ہی پوری دنیا جانتے ہیں ۔

جنوبی پنجاب میں بھلے درجن بھر قوم پرست جماعتیں سہی البتہ ایک قدر مشترک ہے ۔ آج تک کسی امیدوار نے براستہ بیلٹ بکس ہزار کا ہندسہ پار نہیں کیا ۔اور قومی و صوبائی سطح پر ایک سیٹ بھی گرم نہیں کی ۔ پھر بھی دعوی آدھے پاکستان پر اور بقراطی آسمان پر ۔۔۔

جہاں تک جنوبی پنجاب کی مین سٹریم سیاسی قیادت کا معاملہ ہے تو اس وقت یہاں جو جو قدیم و جدید خانوادے چھائے ہوئے ہیں ان کا سیاسی ڈی این اے دورِ مغلیہ سے آج تک جوں کا توں ہے ۔ یعنی یہ بادشاہ مرگیا تو وہ بادشاہ زندہ باد ۔ وہ اپنے خاندانی ، روحانی ،  جغرافیائی ، معاشی مفاداتی دائرے سے باہر نکل کے عملاً کوئی قدم آزادانہ طور پر اٹھانے کی صلاحیت سے جبلی سطح  پر عاری ہیں ۔ وہ مثالی سیاسی ماتحت ہیں ، وہ صرف دعا کرسکتے ہیں ، زبانی بیان جاری کرسکتے ہیں ، لسانی قابلیت کے سبز باغ میں گھما سکتے ہیں اور جب جب ان کی سیاسی ، سماجی و معاشی تسلط کی ریڑھ کی ہڈی کو ہلکا سا خطرہ بھی محسوس ہو فوراً  آنکھیں ماتھے پے رکھ کے انفرادی و خاندانی بقا کا کمبل اوڑھ لیتے ہیں ۔( اب ایک ایک کا نام کیا لینا )۔

تقریباً چالیس برس بعد جنوبی پنجاب سرائیکی صوبے کے معاملے پر دو ہزار بارہ میں کچھ ہل جل ہوئی جب اچانک سے پیپلز پارٹی اپنی پچانوے فیصد مدتِ اقتدار گذار کے اگلے عام انتخابات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہڑبڑا کر نئے صوبے کا لالی پاپ لے آئی ۔ مگر اس موقع پسند سولو فلائٹ نے زمانے کے ہاتھوں مسلسل ڈسے سرائیکیوں پر بال برابر اثر نہیں کیا ۔ اور پھر پیپلز پارٹی کی گیم خراب کرنے کے لئے بہاولپور جنوبی پنجاب کا نعرہ لگا کر لاہوری گروپ بھی کود پڑا اور پھر صرف بہاولپور صوبے کے نعرے کے ساتھ ایک اور اسٹیبلشمنٹی گروہ بھی بذریعہ پیراشوٹ میدان میں اتار دیا گیا ۔

جب ششدر تماشائیوں نے دیکھا کہ اس فلم میں تو میاں برادران ، چوہدری برادران ، محمد علی درانی ، بچے کھچے شاہی خاندان کے چند  بزرگ اور یوسف رضا گیلانی اینڈ کمپنی جیسے منجھے ہوئے پھیپھن اداکار ہیں تو تماشائیوں نے فلم کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے سیاسی بلوغت کے ساتھ انجوائے کرنا شروع کردیا ۔ اور جس جماعت نے اہلِ جنوبی پنجاب سے یہ جذباتی مذاق شرطیہ نئی کاپی بتا کے شروع کیا تھا اسے تماشائیوں نے عبرت ناک انتخابی خاک چٹوا دی۔

تو کیا ان حالات میں جنوبی پنجاب کبھی الگ صوبہ بنے گا۔ ہاں بن جائے گا اگر اللہ کے کرم سے اسٹیبلشمنٹ  کو ضرورت ہوئی ۔ اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ صوبہ بھی بنے اور آپ کی مرضی سے بھی بنے۔۔۔۔

( تب تک تاج گوپانگ ، عاشق بزدار ، عزیز شاہد ، نذیر فیض مگی ، اشو لال اور شاکر شجاع آبادی کے کلامِ با کمال اور حکایاتِ سعید منڈھا  پر گزارہ کیجئے )۔