By Sohaib Iqbal

ملتان کی رہائشی شاہدہ رسول جنہیں پاکستان کی ہیلن کیلر  بھی کہتے ہیں جنہوں نے بصارت سے محروم ہونے کے باوجود شعبہ اردومیں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی اور نابینا افراد کے لیے خود کو مثال بنا لیا ہے

ملتان کے علاقے احسن کالونی کی  رہائشی باہمت ، عزم و حوصلے کی پیکر خاتون  ڈاکٹر  شاہدہ رسول  جو بظاہر تو آنکھوں کے نور سے محروم ہیں  لیکن  انکا دل و دماغ علم کی روشنی سے  جگمگا رہا  ہے  بچپن میں بصارت سے محروم ہونے والی شاہدہ رسول نے معذوری کو عمر بھر اپنی کمزوری نہ بننے دیا اور لاکھ مشکلات کے باوجود تعلیم حاصل کرتی رہیں اور یہ اسی  پختہ عزم ، انتھک محنت  کا ہی نتیجہ ہے کہ انہوں نے اردو کے مضمون میں  پی ایچ ڈی کی ڈگری اپنے نام کی ڈاکٹر شاہدہ رسول اب خواتین یونیورسٹی ملتان میں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں

ڈاکٹر شاہدہ رسول نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی تعلیم کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی جبکہ نابینا خاتون کے لیے تو یہ مشکل ترین کام ہے میرے قریبی لوگ بھی میری حوصلہ شکنی کرتے تھے لیکن میں نے کوششوں سے نو سال کی عمر میں داخلہ لیا۔ تعلیم کے دوران آنے جانے میں کافی مشکلات آئین لیکن میرے اساتذہ اور دوستوں نے میری بھرپور مدد کی ۔ گریجویشن کے بعد میں نے بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں داخلہ لیا میں پورے خاندان کی پہلی خاتون تھی جس نے یونیورسٹی میں قدم رکھا ۔ میں نے ایم اے اردو میں گولڈ میڈل ہی نہیں بلکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کا 16 سالہ ریکارڈ بھی توڑا۔ اس کے بعد ایم فل کیا اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے پی ایچ ڈی کی

۔ اس وقت ڈاکٹر شاہدہ رسول وومن یونیورسٹی ملتان میں شعبہ اردو میں درس وتدریس سے وابستہ ہیں۔

ڈاکٹر شاہدہ رسول نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ  اگر نئی  حکومت سکالرشپ دے تو وہ پوسٹ ڈاکٹریٹ کرکے ملک کا نام مزید روشن کرنا چاہتی ہیں ڈاکٹر شاہدہ کی زندگی مثال ہے ان لاکھوں خواتین کیلیئے جو کسی بھی معذوری کا شکار ہوکر زندگی کی دوڑ میں ہمت ہار جاتی اور دنیا سے  کہیں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here