عمران کمار

کیا آپ نے پاکستان کا ایسا صحرا دیکھا ہے جو بلکل دبئی کی طرح ہے؟ نہیں – جی ہاں یہ ہے رحیم یار خان کا روہی جہاں کا صحرا بلکل دبئی سے کم خوبصورت نہیں اور اب پاکستان بھر میں یہ منی دبئی کے نام سے مشہور ہو گیا ہے – اور تو اور ہہاں پہ گاڑیاں بھی ابوظہبی نمبر پلیٹ کی ملیں گی۔

رحیم یار خان جنوبی پنجاب کا ایک قدیم شہر ہے۔ اگرچہ رقبے میں چھوٹا ہے مگر یہ شہر صحرا میں گھرا، آم اور کھجوروں کے باغات سے بھرپور ہے. اس کا ہوائی اڈہ ملک کے بیشتر چھوٹے چھوٹے شہروں میں پائے جانے والے ہوئی اڈوں کے بالکل برعکس ہے۔

ایک ہموار سڑک جس کے چاروں طرف سبز کھجوروں کے درخت موجود ہیں، تیزی سے اس صحرا میں دوڑتی ہے جو شہر سے بالکل ہی باہر ہے۔ اس کے بعد یہ سڑک ریگستان کے وسط میں ایک زبردست محل پر اچانک ختم ہوجاتی ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ دبئی کے برعکس رحیم یار خان میں ہریالی ہے – یہاں کہ لوگ اونٹ، بکریاں، بھڑیں اور گاے پالتے ہیں – یہاں کے کالے ہرن اور تلور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہیں- ہر سال دبئی، ابوظہی, قطر کے شیخ شکار کھلنے کے لیے آتے ہیں -متحدہ عرب امارت کے حکمران شیخ زید نے تو رحیم یار خان کو اپنا دوسرا گھر کہا- اور یہاں اپنا محل بنایا – شیخ زید ائرپورٹ اور ہسپتال اور سکول بھی ان کے تحفہ ہیں۔

پاکستان میں پائی جانے والی تلور کی نسل بہت نایاب ہے. یہ 1970 کے اوائل میں عرب ممالک میں بھی پائی جاتی تھے. مگر مقامی باشندوں نے اسکا شکار کر کے اسکی نسل کو معدوم کردیا. پاکستان میں بھی اسکی نسل معدوم ہوتی جارہی ہے اور جانوروں کے حقوق کے لئے کم کرنے والے اداروں نے اسکے شکار پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

LEAVE A REPLY