قلعہ دراوڑ جنوبی پنجاب کے ضلع بہاول پور کی تحصیل احمد پور میں تقریبا شہر سے 100 کلو میٹر شمال کی طرف واقع ہے۔ صحرا چولستان کے دل میں واقع یہ قلعہ اپنے آپ میں ایک تاریخ سموئے ہوئے ہے اور صحرا میں قلعے کی دیواریں اور عالی شان تعمیرات ماضی کی عظیم تہذیب کی گواہی دیتی ہیں۔

قلعہ دراوڑ کو راجپوت بادشاہ رائے ججہ بھٹی نے تعمیر کروایا تھا. اسے ایک زمانے میں بہاولپور کا دارالحکومت سمجھا جاتا تھا۔ اس قلعے کو بہاولپور کے نواب محمد خان اول نے رائے ججہ بھٹی سے 1733 میں قبضے میں لے کر دوبارہ تعمیر کروایا۔ بعض مورخین کے مطابق قلعہ کو راول دیو راج بھاٹی نے تعمیر کروایا جو جسلمیر اور بہاول پور ریاست کا خودمختار راجپوت حکمران تھا۔ اسی لیے قلعہ کو دیوراول کہا جانے لگا۔ دیو راول سے دیو راور دراوڑ بن گیا جو اس کا موجودہ نام بھی ہے۔

یہ قلعہ جسلمیر ریاست کا حصہ تھا۔ 1733میں نواب آف بہاولپور نواب محمد خان اول نے اس قلعہ پر حملہ کیا اور راجہ راول سنگھ کو شکست دے کر اس قلعہ پر قبضہ کرلیا اور یہ قلعہ ریاست بہاولپور کا حصہ بن گیا۔ جسلمیر کے راجہ راول سنگھ نے 1747میں قلعہ پر دوبارہ قبضہ جما لیا۔ 1808میں نواب آف بہاولپور دوبارہ قلعہ پر حملہ کرتے ہوئے راجہ راول سنگھ کو شکست دی اور یہ قلعہ دوبارہ ریاست بہاولپور کا حصہ بن گیا اور تب سے آج تک یہ قلعہ نواب آف بہاوپور کی حکمرانی میں رہا ہے۔

قلعہ دراوڑ کی 30میٹر بلندوبالا بل کھاتی مربع شکل کی دیواریں قلعہ کے جاہ و جلال کی ایک عظیم داستان بیان کرتیں ہیں۔ قلعہ میں 40 پلوں سمیت ایک کنواں، ایک مرکزی دروازہ ہے ایک بڑا تالاب ہے جو سیاحوں کی خصوصی دلچسپی کا مرکز ہے۔ البتہ تالاب اب خشک ہو چکا ہے۔

قلعہ کے صحن نما میدان میں ایک قدیمی اور تاریخی توپ بھی موجود ہے جو جنگ کے دوران دشمنوں کے لیے استعمال کی
جاتی تھی اور آج یہ توپ بھی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ توپ کے ساتھ ایک سرنگ بھی بنائی گئی تھی جو قلعہ کے خفیہ راستوں سے ہوتی ہوئی جسلمیر تک جاتی تھی جسے بعد میں بند کر دیا گیا تھا۔

قلعہ میں موجود اکثر کمروں کی دیوریں اور چھتیں گر چکی ہیں جبکہ مرکزی دیواریں بھی کمزور پڑ چکی ہیں جن کا کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ ہے۔ قلعہ دراوڑ کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت کا ہنگامی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ورنہ اسی قلعہ کے ساتھ ایک پوری تہذیب دفن ہو جائے گی۔

۔

LEAVE A REPLY