عمران کمار

گڑ جسے انگریزی میں جیگری کہتے ہیں، گنے کے رس کو پکا کر بنایا جاتا ہے. اس کا رنگ سرخ ہوتا ہے. بعض دفعہ رنگ سرخی مائل سیاہ اور زرد بھی ہوتا ہے اس کا ذائقہ شیریں ہوتا ہے. اس کا مزاج گرم اور خشک ہوتا ہے. گڑ قدرتی مٹھائی کے طور پر جانا جاتا ہے. گڑ صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔

قدیم طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق گڑ میں وافر مقدار میں وٹامن اور نمکیات موجود ہوتے ہیں جس سے نہ صرف قوّتِ مدافعت بڑھتی ہے بلکے اس سے قبض کی شکایت بھی دور ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گڑ میں پایا جانے والا پوٹاشیم نظامِ انہضام کو درست کرتا ہے جس سے موٹاپے میں کمی اور وزن بھی متوازن رہتا ہے. متعدد افراد کھانا کھانے کے بعد گڑ کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس سے کھانا جلدی ہضم ہوتا ہے۔

آئرن ہمارے جسم کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ یہ ہمارے جسم میں خون کی کمی کو پورا کرتا ہے. گڑ آئرن کے حصول کا بہترین اور سستا ذریعہ ہے۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ گڑ کا استعمال شوگر جیسی مہلک بیماری سے نجات دلاتا ہے. موسم سرما میں اس کی مانگ بڑھ جاتی ہے کیونکہ لوگ اس کی چائے بنانے کے ساتھ ساتھ اس سے سوغاتیں بھی تیار کرتے ہیں۔

چولستان کے کسانوں کو گنے کی مناسب قیمت نا ملنے کی وجہ سے آج بھی گڑ بناتے ہیں اور اس کو خود استعمال کرنے کے علاوہ شہروں میں بھی ترسیل کیا جاتا ہے۔ گڑ کے استعمال کے باعث چولستان کے لوگ تندرست اور توانا رہتے ہیں. چولستان میں آج بھی گڑ کا استمال عام ہے اور لوگ اسے اپنے روز مرہ کی خوراک میں ضرور شامل کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY