عمران کمار

قلعہ دراوڑ کی حدود میں ہونے والی جیپ ریلی نہ صرف چولستان بلکہ تمام نیشنل اور انٹر نیشنل لیول پر لوگوں کے لیے خوشی کا موضوع ہے. پاکستان کے علاوہ دنیا کے دوسرے ممالک سے بھی لوگ اس میں شرکت کر کے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

چولستان کے فنکاروں کو بھی اس ریلی کا بڑی بے صبری سے انتظار ہوتا ہے. انھیں اُمید ہوتی ہے کہ جیپ ریلی کی آمد پر ان کو اپنے فن کو اجاگر کرنے کا موقع ملے گا. اس موقع پر وہ اپنے فن کا مظاہرہ کر کے اپنے گھر کا خرچ اُٹھاتے ہیں اور گزر بسر کرتے ہیں۔

پچھلے 15 سالوں سے ہر بار ریلی کے موقع پر فنکاروں کے لیے ایک سپیشل پروگرام مختص ہوتا تھا. اس پروگرام میں ملنے کچھ رپیوں سے فنکار اپنے گھر کے چولہے جلاتے تھے۔

افسوس کہ اس بار 16ویں جیپ ریلی کے موقع پر ضلعی حکومتوں کی طرف سے چولستان کے فنکاروں کو پرموٹ نہیں کیا گیا. اس وجہ سے چولستان کے فنکاروں کو بہت دُکھ ہوا لیکن پھر بھی انہوں نے حوصلہ نہیں ہارہ ، اپنی ثقافت کو زندہ رکھتے ہوئے کیمپوں کے باہر اور روڈ کنارے بیٹھ کر اپنے فن کا مظاہرہ کر کے راہ گیروں کو تفریح کا موقع فراہم کیا۔

مقامی آرٹسٹوں نے حکومتِ پاکستان سے درخواست کی کہ چولستان کے فنکار جو کہ پسماندہ لوگ ہیں ان کے لیے پھر سے ریلی کے دوران مخصوص دن مقرر کیے جائیں تا کہ وہ اپنے فن کا مظاہرہ کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

LEAVE A REPLY