عمران کمار

دنیا بھر میں پنجابی کیلنڈر کا نیا سال آج منایا جارہا ہے اس دن کو منانے کا مقصد دھرتی کا سینہ چیر کر اس میں گندم اگانے والے ہمارے کسان بھائیوں ،بہنوں جو آج سے اپنی فصل کی کٹائی کا آغاز بھی کرتے جس کے لئے وہ کئی ماہ تک زمین کے سینے پر ہل چلاتے، اسے اپنے خون اور پسینے سے سینچتے اور شب وروز انتھک محنت کو یاد کرنا بھی ہے ۔

رواں سال بیساکھی کا تہوار ایسے ماحول میں آیا ہے جب کورونا نے پوری دنیا اور برصغیر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے پاکستان کا کسان جو پہلے ہی طرح طرح کی مشکلات سے نبردآزما ہے اسے ان ایام میں لاک ڈاؤن سمیت بہت سی دیگر مشکلات کا سامنا ہے۔

دنیا کورونا کی وجہ سے جہاں انسانی تاریخ کی بد ترین آزمائش سے گذر رہی ہے جس کے باعث صحت کا شعبہ شدید مشکل حالات سےدوچار ہے اس وبا نے دنیا میں فوڈ سیکیورٹی کے لئے بہت سے سوالوں کو جنم دیا ہے ۔

آج ہمیں ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسی وضع کرنی ہے جس سے پاکستان اپنی اجناس سے عوام کی ضرورتوں کو مکمل طور پر پورا کر سکے اس کے ساتھ کھیت میں جانفشانی کرنے والے کسان بھائیوں کو انکی محنت کا جائز معاوضہ ان کی دہلیز پر ملے ۔

LEAVE A REPLY