جی آر جونیجو
گھڑ سواری ایک شاہانہ شوق مانا جاتا ہے مگر سندھ میں یہ رسم و رواج کا حصہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ گھوڑے کے شوقین مہنگی قیمت میں اچھے نسل کا گھوڑا خرید کرتے ہیں۔
سندھ کے عمدہ نسل گھوڑوں میں مور، طوفان اور راہی سرفہرست شمار ہوتے ہیں جبکہ کئی افراد اپنے گھوڑوں کے نام اپنی پسند پر رکھتے ہیں۔ سرتاج اسیر، دلنواز، باز، ملنگ کچھ نامور شامل ہیں۔ گھوڑے کی قیمت ایک سے دس لاکھ تک ہوتی ہے۔ سندھ کے گھوڑوں کی انفرادیت سندھی چال ہے جو بیرون ملک تک شہرت رکھتی ہے۔
سندھ میں اچھے نسل کے گھوڑوں کی قیمت دو لاکھ سے دس لاکھ ہوتی ہے اور اس کو مکمل تیار کرنے کے لیے بھی بھاری رقم اور وقت درکار ہوتا ہے۔ ایک گھوڑے کو مکمل تیار ہونے کے لیے چار ماہ سے ایک سال کا وقت لگتا ہے۔ گھوڑے کو مکھن اور بادام سمیت مختلف مہنگی چیزیں اور فروٹ بھی کھلایا جاتا ہے۔ جبکہ گھوڑے کو سنوارنے کے لیے مہنگا سامان بھی خریدا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی دوڑ اور چال سمیت حسن میں بھی سب کی نظروں کا مرکز رہے۔
اس دور جدید میں جہاں جدید ٹیکنالوجی کے تحت مختلف سہولیات میسر وہیں سندھ میں گھوڑے سواری کا زندہ رہنا ور نئے نسل میں بڑہتا رجحان سندھ کی عظیم ثقافت کے رنگوں سے بے مثال محبت کا ثبوت ہے۔


