بھری دوپہر میں گرمی کی شدت سے سارے ہی گھروں کے اندر دبکے بیٹھے تھے کہ باہر سے ہماری بلی نازو کی آواز آئی تو امی نے کہا اسے اندر لے آؤ باہر لّو ہے جاندار تکلیف میں ہوگی، امی کی ہدایت پر نازو کو لینے باہر گئی تو اسے کیاری میں لگے پوروں میں پناہ ڈھونڈتے پایا، اسے لے کر اندر آنے لگی تو دیکھا پوروں کو بھی پانی کی ضرورت ہے۔ شدید گرمی کی وجہ سے پودوں کو دیا ہوا پانی کب کا خشک ہو چکا تھا۔ ابو کی کہی ایک بات کی بازگشت زہن میں گونجی کہ”یہ دیکھو پیاس سے رو رہے ہیں، پانی تو پلاوُ اِن کو”۔

کیاری میں پانی ڈال کر اندر آئی تو زین اس بات پر اٹکا ہوا تھا بچپن میں جب ابو نے یہ بات کہی تھی تو میں نے بڑی حیرت سے پوچھا تھا کہ وہ انسان تھوڑی ہیں کہ پیاس لگنے پہ روئیں یہ تو زمین سے خوراک اور پانی لیتے ہیں – ابو نے مسکرا کے جواب دیا! یہ جاندار ہیں میرے دوست ہیں انہیں بھی بھوک، پیساس لگتی ہے _ بس کھانے پینے کا طریقہ الگ ہے ۔ اور جب کھانا پنا وقت پر نہیں ملتا یا چوٹ پہنچتی ہے تو تکلیف بھی ہوتی ہے اور روتے بھی ہیں بلکل ایسے ابو نے ایک ادھ مرجھائے ہوئے پتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔ اُس وقت وہ بات شاید اس طرح سمجھ نہیں آئی تھی جسے آج محسوس ہو رہی ہے۔

بچپن سے پودوں کے لیے ابو کی محبت دیکھتی آئی ہوں – ان کا خیال رکھتے، ان کو پانی دیتے. یہاں تک ک صفائی اور گوڈی کے دوران ان سے باتیں کرتے بھی. ابو کا کہنا ہے کہ یہ انکے دوست ہیں۔ پودوں سے میری انسیت کی وجہ بھی یہی پہی باتیں ہیں اور بڑے ہوتے ہوتے یہ انسیت حساسیت میں کب بدلی اس کا پتا اُس وقت چلا جب پھولوں سے بے انتہا پسندیدگی کے باوجود ان کو توڑنے سے خود کو اجتناب کرتے پایا۔

ہم سوچتے ہیں اور یہ ہی ہم سمجھتے بھی ہیں کہ درختوں کی آنکھیں نہیں ہیں، دماغ نہیں ہیں۔ اعضاء نہیں ہیں وہ حرکت نہیں کر سکتے۔ شاید یہی سوچ ہے کہ جس کی وجہ سے ہم ان کو اندھا دھند کاٹتے ہیں۔ ہم ان کا خیال رکھنے کی بجائے فیکٹریوں کا فضلہ، گھروں اور دفاتر کا گند وغیرہ درختوں کے پاس پھینک دیتے ہیں ہم ان کو اہمیت ہی نہیں دیتے جس بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہم ماحول اور درختوں کے دشمن خود ہیں۔ ہم درخت کاٹتے ہیں۔ پرندوں کے آشیانے تباہ کر دیتے ہیں۔

اس بات کا اندازہ مجھے مزید شدت سے اس وقت ہوا جب اِس سال مئی کے مہینے میں ہم نے پیلو (پیروں) کھانے کا پروگرام بنایا- کہانی کچھ اس طرح سے ہے کہ جب میں چھوٹی تھی تو ابو ہمیں ہر سال پیلو کے موسم میں باہر کھیتوں، پہاڑوں اور ندی کے کنارے لے کر جاتے تھے جہاں ہم صبح سویرے کا پورا وقت پیلو کھانے میں گزارتے، درختوں پر چڑھتے، کھیلتے اور خوب لطف اندوز ہوتے لیکن اس دفعہ وہ تمام جگہیں بغیر درختوں کے، چٹیل میدانوں یا پھر ویسے ہی ٹیلوں کی صورت میں موجود بہت ہی اجنبی لگ رہیں تھیں. اور جب اجنبیت آجائے تو انسیت، خلوص، محبت، رشتے ناتے سب ختم ہو جاتے ہیں پھر ویرانی کے سوا اور ہو بھی کیا سکتا ہے، پھول نہیں کھلیں گے بلکہ سورج آگ ہی برسائے گا۔

دوستوں کو روٹھتے تو سنا تھا مگر یہاں تو ہم نے بہت ہی قلیل رقم یا فائدے کے لیے اپنے دوستوں کو قتل کردیا ہے۔ لسبیلہ اور ایسے میدانی علاقوں میں جھاڑی / جھاڑ یا پیلو کا پودا بہت ہی عام ہے خودرو ہے اور پورے علاقے کو سرسبز رکھے ہوئے ہے زمین کے کٹاو کو روکنے کا بہت ہی موثر زریعہ ہے، اونٹوں کی مرغوب غذا بھی ہے اور جب اس درخت پر پیلو پکتے تو بلبل اور اس طر ح کے دیگر موسمی پرندوں کی خوراک اور مسکن ہوتا ہے اور یہ پرندوں کا بریڈنگ سیزن بھی ہوتا ہے. پرندوں کی ایک خاص چہکار، ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنے اور پیار کرنے کی ادائیں زندگی سے بھرپور ہوتی ہیں اگر آپ تھوڑی دیر کیلئے اس منظر کو سوچیں تو اس کی کشش آپ کو ایک سحر میں گرفتار کر دے گی لیکن کم قسمتی سے ہم نے قدرت کی اس عظیم الشان نعمت کو جانے انجانے میں ٹمبر مافیا کی بھینٹ چڑھا دیا ہے اب تو ہم نے دیہاتوں میں بھی اس کو مسواک کے طور استعمال کرنا بھی چھوڑ دیا اور کیمیکل کا پیسٹ اور پلاسٹک کا برش کو قدرت کے اس عظیم تحفے کا متبادل بنا دیا جس کی وجہ سے ہم جانی و مالی مسائل کا شکار بھی ہورہے ہیں۔

5 جون ماحولیات کا عالمی دن ہے- ہرسال کی طرح اس بار بھی کلاءیمیٹ چینج پہ بڑی بڑی باتیں ہوں گی۔ درخت لگانے کی مہمات شروع کی جائیں گی لیکن پودے لگانے کے بعد ان کی صحیح نگہداشت یکسر نظرانداز ہو جاتی ہے، خیال نہیں رکھا جاتا۔ پانی وغیرہ نہیں دیا جاتا اور دیکھ بھال نہیں کی جاتی، نتیجتا وہ دھوپ کی سختی برداشت نہیں کر پاتے اور مر جاتے ہیں ،گل سڑ جاتے ہیں۔

درخت لگانا، لگانے کی ترغیب دینے اور درختوں کو دوست بنانے میں بہت فرق ہے۔ درخت لگا دینے سے ہمارا کام پورا نہیں ہوتا، صرف درخت لگانا ہی کافی نہیں بلکہ درختوں کی مکمل نگہداشت ضروری ہے۔ ان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے. یہ سب پودے آپ کے دوست ہیں، آپ کو دوستوں کی طرح ہی انہیں وقت دینا ہوگا۔ ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ انہیں پانی دینا ہوگا۔ ان کی گوڈی وغیرہ اور دیکھ بھال کرنی ہو گی۔ ہم سب کے لئے یہ بات شاید نئی ہو لیکن ہم نے اس معاملے مخلص ہونا ہوگا۔ ہمیں اپنے دوستوں کا خیال رکھنا ہوگا. ہمیں قدرتی ماحول اور اپنے دوستوں کو بچانا ہو گا۔ ماحول اور انسان  دوست درختوں کواپنا دوست ماننا ہوگا ان کا خیال رکھنا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر ان کو دوست بنا کر ہم انسان دوست ماحول بنا سکیں گے۔

فقط جاندار یا دوست فیصلہ آپ کا۔


لکھاری حفصہ قادر کا تعلق لسبیلہ سے ہے آپ لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر واٹر اینڈ میرین سائنسزز اوتھل میں سوشل سائنس کی طالبہ ہیں. آرٹس میں دلچسپی رکھتی ہیں اور صوفیانہ شاعری بھی کرتی ہیں اس کے علاوہ وانگ (ویلفیئر ایسوسی ایشن فار نیو جنریشن) کے ساتھ منسلک ہیں اور جینڈر، انوارومنٹ اور ڈیجیٹل لٹرسی پہ کام م کرتی ہیں، ایڈولسٹ ڈیولوپمنٹ اینوشیٹو اے دی ای کی ٹیم لیڈ کے طور پر کام کررہی ہیں۔