برکت اللہ بلوچ اور حانی رمضان

صلاحیت اور قابلیت کسی کی میراث نہیں ہوتیں اور نہ ہی یہ کسی جنس سے منسلک ہوتی ہیں اگر ان کو کھل کر اظہار کا موقع دیا جائے تو ایسے شاہکار تخلیق پاتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتی ہے۔ اس بات کو ثابت کیا ہے بلوچستان کے ساحلی قصبے پسنی سے تعلق رکھنے والی صنف نازک شبینہ سلیم نے۔

شبینہ سلیم اپنے اپنے نازک ہاتھوں سے ایسے شاہکار تخلیق کرتے ہیں کہ کوئی بھی انسان تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا ان کو رنگوں کے ساتھ کھیلنے کا ہنر بخوبی آتا ہے وہ کینوس پر رنگ ایسے بکھیردیتے ہیں کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔

شبینہ سلیم نے اپنی ابتدائی تعلیم پسنی سے ہی حاصل کی ہے جبکہ سردار بہادر خان یونیورسٹی کوئٹہ سے فائن آرٹس میں ماسٹرڈگری ہولڈر ہیں۔

پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آرٹ کا شوق انھیں بچپن ہی سے تھا لیکن اس ہنر سنوارنے اورسجانے کا سہرا میرے ارد گرد کے ماحول کو جاتا ہے کیونکہ پسنی ایک ایسا شہر ہے جہاں آرٹسٹوں کی کمی نہیں،وہ اپنے ماحول سے متاثرہوکر ہی اس شعبے میں آئی ہیں۔


شبینہ سلیم کہتی ہیں کہ وہ عورت،بلوچستان کی تاریخ، تعلیم، امن اورترقی وخوشحالی ان کے آرٹ کے موضوع ہیں وہ خاص طورپر عورتوں کے مسائل اور مصائب کو اپنے آرٹ کے زریعے اجاگر کرنا چاہتی ہیں۔

وہ بلوچستان کا حقیقی چہرہ اور اس کے مسائل کو بھی اپنے آرٹ کےبزریعے دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہیں
شبینہ سلیم ملکی سطح پر آرٹ کے کئی مقابلوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں جہاں اس نے اپنی اس ہنر کے زریعے کئی مقابلے اپنے نام بھی کئے ہیں۔ شبینہ سلیم اپنے پیغام میں کہتی ہیں کہ والدین کو اپنے بیٹوں کے ساتھ اپنی بیٹیوں کو بھی بھرپور موقع فراہم کرنے چائیے کیونکہ ان نازک ہاتھوں میں وہ صلاحیتیں پوشیدہ ہیں جس کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here