برکت بلوچ
گوادر کی اگر کامیاب اور باہمت خواتین کی فہرست ترتیب دی جائے تو اس میں سبین بلوچ کا نام سرفہرست ہوگا.
سبین بلوچ ایک انتہائی محنتی ، باہمت اور مخلص شخصیت کے علاوہ ایک بہترین منتظمہ بھی ہیں۔سبین بلوچ کو گوادر کی پہلی خاتون لیکچرار اور گوادر گرلز کالج کی پہلی پرنسپل ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ سبین بلوچ کی محنت اور کوششو کی بدولت گرلزکالج گوادر کو آج بلوچستان بھرمیں ایک اہم مقام حاصل ہے ان کی شبانہ روز محنت اور کوششوں کی بدولت گزشتہ سال گرلز کالج گوادر کو بلوچستان بھر کے ٹاپ کالجز میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے کا اعزاز نصیب ہوا۔ان کی بے پناہ کوششو کا ثمر ہے کہ گرلزانٹر کالج گوادر نے قلیل مدت میں انٹر کالج سے ڈگری کالج کا سفرمکمل کیاہے۔
پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے سبین بلوچ کاکہناتھاکہ وہ کراچی میں پیداہوئی ہیں لیکن بنیادی طورپرانکا تعلق گوادر کے مضافاتی علاقہ نلینٹ کلانچ سے ہے۔انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی اور پسنی سے حاصل کی ہے.
انھوں نےPECHSگورنمنٹ کالج فار ویمن کراچی سے گریجویشن جبکہ بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ سے تاریخ کے مضمون میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے.
ماسٹر کرنے کے دو سال بعد انھوں نے پبلک سروس کمیشن کے زریعے مکران کی واحد آسامی پر ہسٹری کے لیکچرار کی ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کرکے گوادرکی پہلی خاتون لیکچرار کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہناتھا کہ بحیثیت لیکچرار تقرری انکی پہلی تعیناتی گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج تربت میں ہوئی جہاں خدمات سرانجام دینے کے بعد ان کا تبادلہ اپنے آبائی علاقہ “پسنی بوائز انٹر کالج” میں کیاگیاجہاں وہ شام کے وقت طالبات کو زیورتعلیم سے آراستہ کرتی تھی۔کئی سال پسنی میں خدمات انجام دینے کے بعد ان کا تبادلہ ڈگری کالج گوادر میں کیاگیا جہاں وہ پسنی کی طرح شام کے وقت طالبات کو پڑھانے کا کام سرانجام دیتی تھی کیونکہ اس وقت گوادر میں گرلز کالج موجود نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ گوادر گرلز کالج کا قیام ان کی ایک دیرینہ خواہش تھی جس کے لئے وہ پہلے دن سے کوششیں کررہی تھی پھر ایک دن ان کی کوششیں اور کاوشیں رنگ لے آئیں اور ڈسٹرکٹ گوادر کا پہلا گرلز کالج کا قیام عمل میں آیا اور انھیں اس کالج کا پرنسپل تعینات کردیاگیا یوں انھیں گوادر گرلزکالج کا پہلا پرنسپل ہونےکا بھی اعزازحاصل ہوا۔
ان کا کہناتھاکہ گوادر گرلزکالج کے قیام کے بعد گوادر میں گرلزایجوکیشن میں انقلابی تبدیلی آئی اور سینکڑوں کی تعداد میں طالبات نے کالج کارخ کیا اور آج گوادرگرلزکالج کو چار سال مکمل ہونے کو ہیں۔ اور یہاں سے فارغ التحصیل طالبات ملک بھرکی مختلف جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں جن میں جامع کراچی،جامعہ بلوچستان بولان میڈیکل یونیورسٹی، خضدار انجینیئرنگ یونیورسٹی ،جامعہ ، بنّوں میڈیکل کالج وغیرہ شامل ہیں۔
سبین بلوچ کاکہناتھاکہ وہ گزشتہ 14سال سے تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں انکی خواہش اور کوشش ہے کہ ان کے علاقے کی بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے تمام سہولیات میسرہوں تاکہ کوئی بھی بچی تعلیم کے زیورسے محروم نہ ہو۔
ان کاکہناتھا انھیں گوادر کی بچیوں سے بہت ساری امیدی وابستہ ہیں مستقبل میں ان ہی کو کالج کا انتظام وانصرام سنبھالناہے اس لئے انکی خواہش ہیکہ آنے والے دور کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے وہ مخلصی اورلگن کے ساتھ اپنا تعلیم جاری رکھیں اور باقی بچیوں کے لئے مثال بنیں۔ان کا کہنا تھا کہ سی پیک اور گوادر پورٹ کی وجہ سے گوادر کے بچیوں کو مستقبل میں بہت سارے مواقع میسر ہونگے ان کے پاس ابھی وقت ہے وہ محنت کے ساتھ اپنی تعلیمی سلسلے کوجاری رکھیں ایک دن ان کی محنت ضرور رنگ لائے گی۔ان کا کہناتھا کہ آنے والا دور مقابلے کا دور ہے اور کامیابی اسے ملے گی جو محنت کو اپنا شعاربنائے گا اگر ہمیں آگے بڑھنا ہے تو ہمیں اپنی بچیوں کو تعلیم دینا ہوگا کیونکہ آنے والے دور کے چیلنجز کامقابلہ صرف تعلیم سے ہی ممکن ہے۔
Attachments area

LEAVE A REPLY