عمران کمار

بھارت سے واپس آنے والے میرپورخاص کے ہندوکچھی کوہلی برادری کے افراد کا کانجھی کچھی کولہی گوٹھ میرپورخاص آمد پر وکیل سرون کمار بھیل، ڈپٹی جنرل سکیٹری سندھ انصاف لیبر ونگ ای ڈی سی ٹو پریم چند اور اسسٹنٹ کمشنر حسین بخش مری محمد خان کھٹی نے شاندار استقبال کیا گیا۔

کوہلی گوٹھ کے 2 خاندانوں کے 15 لوگ جس میں بچے عورتیں اور مرد شامل ہیں جو مذہبی رسومات کی ادائیگی اور روز گار کے سلسلے میں 8 ماہ قبل پاکستان سے بھارت ہجرت کرگئے تھے۔ ان ہندو خاندانوں کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمان اورسکھ ہی نہیں پاکستان سے جانیوالے ہندوؤں کے ساتھ بھی انتہائی نارواسلوک رکھا جاتا ہے۔

بھارت میں مذہب سے بڑھ کرسب سے بڑا جرم پاکستانی ہونا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بسنے والے تمام ہندوئوں کو کہنا چاہتے ہیں کہ جو بھی انہیں یہ سبزباغ دکھاتا ہے کہ بھارت میں زمین ملے گی، شہریت ملے گی یہ سب جھوٹ ہے، جو آٹھ دس سال سے بھارت میں گئے تھے وہ آج بھی جھونپڑیوں میں زندگی گزاررہے ہیں۔ ضلع انتظامیہ میرپورخاص ان کی واپسی کے بعد تعاون کررہی ہے اور بھارت سے واپسی آنے والے ہرفرد کو ایک ماہ کا راشن دیا گیا ہے اس موقع پر، صحافیوبں اوردیگر لوگوں نے واپس آنے والے ہندوکچھی کولہی کے لوگوں کو پھولوں کے ہار پہنائے۔ واضح رہے کہ بھارتی صوبے راجستھان میں گیارہ ہندو پاکستانی مہاجرین کی موت ابھی تک ایک معمہ ہے۔

LEAVE A REPLY