‎یلان بلوچ زامرانی‎

بلوچستان کے دوسرے بڑے ضلع کیچ تربت شہر کے کئی اسٹوروں میں مختلف ادویات اور بچوں کے دودھ کی شدید قلت ہوگئی ہے۔

جو ادویات میسرہیں، ان کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے اور عام افراد کی قوت خرید سے باہر ہوگئی ہیں. اس صورت حال کے بعد مریض ذہنی کوفت کا شکار ہیں اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے دوسرے شہروں سے بھی ادویات منگوانے سے قاصر ہیں۔

مقامی میڈیکل اسٹور کے ایک مالک نے پاک وائسیز سے بات کرتیہ ہوۓ بتایا کہ طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے کراچی سے کم مقدار میں ادویات دستیاب ہورہی ہے جبکہ میسر شدہ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی سب سے بڑی وجہ ادویات کی قلت ہے۔

ضلع کیچ کی سرحد ایران کے ساتھ بھی ملتی ہے اور یہاں کورونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ بھی موجود ہے. اب تک کیچ سے کورونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی ٹیسٹ کیا گیا ہیں. مگر موجودہ حالات اور صحت کی سہولیات کے فقدان میں یہ ضلع بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔

عوام نے ڈی سی کیچ میجر ریٹائرڈ محمد الیاس کبزئی سے مطالبہ کیا ہے کہ دوائیوں کی قیمتوں کی کڑی نگرانی کیلئے ڈرگ انسپکٹرزکو متحرک کریں اور میڈیکل اسٹورزمالکان کی اجلاس بلاکر ادویات کی کمی کو ہنگامی طور پر دُور کرائیں تاکہ مریض اذیت میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں اور بیماروں کی پریشانی کاحل جلد تلاش کیا جاسکے. ساتھ ہی ساتھ شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کے مقامی طور پر کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ اور اسکریننگ کا آغاز کیا جائے۔

LEAVE A REPLY