سلیمان ہاشم

حفیظ اللہ کیا زئی جُنز آرٹ اکیڈیمی گوادر کے صدر ہیں۔ انھوں نے پولٹیکل سائنیس میں گریجویشن کی ہے۔ عرصہ 6 سال سے جنز اکیڈیمی سے وابستہ ہیں۔

هم نے ان سے پوچها کہ جنز اکیڈیمی کی کب ابتدا ہوئی اور اس کا مقصد کیا تھا؟

حفیظ کیازئی- جنز اکیڈمی گوادر کی باقاعدہ 2015 میں بنیاد رکھی گئی۔ اس کے قائم کرنے کا مقصد اورخیال یہاں کے چند نوجوان فنکاروں اور مقامی آرٹسٹوں کا ایک دیرینہ خواب تھا۔ ان کو ایک پلیٹ فارم میسر ہو تاکہ وہ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں میں نکھار پیدا کر سکیں۔گزشتہ چند سالوں میں جنز اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے یہاں کے آرٹسٹوں کو کافی بہتر تربیت حاصل ہوئی۔ انھیں تراشہ گیا۔ ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو نکھارا گیا، تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف ہوں۔ اسی خیال کے تحت اس اکیڈیمی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ گوادر جیسے ایک پسمانده علاقے میں یہاں کے فنکاروں کے لیے ایکٹنگ کی کلاسز شروع کی گئیں۔ 2015 سے لے کر 2021 تک 6 سال کے دورانیے میں جنز اکیڈیمی میں جہاں اس سوسائٹی یا اس معاشرے میں ہم رہتے ہیں، گو کہ کوئی بڑا کام نہیں دکھایا لیکن اس ادارے نے اپنے وجود کو ضرور مسلم کیا ہے۔ اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنز اکیڈمی بلوچستان کا وہ واحد ادارہ ہے کہ اس نے اتنی قلیل مدت میں کئی آرٹسٹوں کو متعارف کرایا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ جنز اکیڈمی نے انٹرنیشنل سطح پر بھی اپنے آپ کو منوایا۔ لیکن افسوس کہ ہمارے آرٹسٹوں کو بدقسمتی سے دنیا میں اپنے فن کو اجاگر کرنے کا بہتر موقع حاصل نہ ہو سکا۔

اس اکیڈمی کا اصل مقصد اپنے فن کاروں کو لوگوں میں اس معاشرے اور سوسائٹی میں متعارف کرانا ہے۔ ہمارا بنیادی نظریہ یہی تھا جس میں ہم کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔

سوال:آپ کو بلوچی فلم اور آرٹسٹ بننے کا خیال کب اور کیوں آیا؟
جواب۔ مجھے کبھی یہ گمان نہ تھا کہ میں اس فیلڈ کا حصہ بن جاؤنگا ۔ یہ مارچ 2016 کی بات ھے کہ ایک فلم کی اسکریننگ کے موقع پر میری ملاقات جناب الّللہ بخش حلیف سے ہوا ۔ یہاں یہ بات واضع کرتا چلوں کہ جُنز آرٹ اکیڈمی کے اصل بانی الّللہ بخش حلیف ہی ہیں۔ جس نے تمام سنئیر و جونئیر فنکاروں کا ایک گروپ بنایا اور یہ نام جُنز(جدوجہد) بھی اللہ بخش حلیف صاحب کا ہی تجویز کر دہ ھے کہ اِس نام سے اکیڈمی بنائی جاۓ اور جُنز آرٹ اکیڈمی مجھ سے قبل وجود رکھتا تھا۔ اور اِس ملاقات میں مجھے اللہ بخش حلیف نے جُنز آرٹ اکیڈمی کا ممبر بھی بنایا۔ پھر اُسی ہی مہینے میں اللّہ بخش حلیف اور تمام فنکاروں نے مجھے اکیڈمی کا سربراہ منتخب کیا۔ اور مجھے اِس فیلڈ کا اتنا علم نہیں تھا مگر استاد اللّہ بخش حلیف نے مجھے فلم میکینگ اور ایکٹینگ کے سارے ابتدائی رولز کلاس کے صورت میں پڑھایا اور یوں پھر یہ سلسلہ شروع ھوا جو آج تک جاری ھے۔

سوال : آپ کی اکیڈیمی میں اب تک کتنے نئے آرٹسٹ متعارف ہوئے ہیں اور وہ اب کس اسٹیج تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟

حفیظ کیازئی: جُنز آرٹ اکیڈمی گوادر میں کُل 22 کے قریب سینیئر اینڈ جونیئر فنکار/ کیمرہ مین، اسکرپٹ رائیٹر موجود ہیں، اور کچھ جونیئر فنکاروں میں انیتا جلیل نے بلوچ آباد جیسی مشہور فلم میں بہترین رول پلے کیا ہے۔ رحیم لال، عزرہ حبیب، حرا احمد، حاجرہ احمد نے بھی اسٹیج پر بہترین رول پلے کیا ہے اور شارٹ فلمز بھی کی ہیں۔ اور دیگر 7 نئے میل و فی میل آرٹسٹ بھی متعارف ہو چکے ہیں، اور آنے والے وقت میں مزید نوجوان اس فیلڈ میں آ رہے ہیں۔ یہ سب جنز اکیڈمی کی محنت و کاوش کا نتیجہ ہے۔

سوال:کیا آپ نے خود اپنی کسی کہانی پر کوئی فلم بنائی ہے؟
جواب۔ جی بلکل میں نے اکثر اپنی ہی کہانیوں کو فلموں کے رنگ دیکر لوگوں کو انٹرٹین کرنے کی کوشش کی ہے۔ اِس فیلڈ میں میری سب سے پہلی شارٹ فلم( MW) یعنی کہ منرل واٹر کے نام سے گوادر میں پانی کی قلت اور بحران پر بنایا تھا۔ پھر (اِشکند) کے نام سے ایک اور شارٹ فلم بدر عالم کی لکھی ھوئی کہانی پر بنایا، اور پھر اپنی لکھی ھوئی۔ عکس، ھشت ءُ بیست، گنوکاں، حیات ءُقلم، بے آپیں ماھیگ، اور ٹھگ بنا چکا ھوں ۔ اور اِن میں سے کچھ میں خود بحیثت ادکار بھی کام کرچکا ھوں۔ اور بغیر اِشکند کے باقی تمام خود لکھا اور ڈائیریکٹ کر چکا ھوں ۔اور یہ ساری کہانیاں شہر گوادر میں سوشل مسائل پر ہی بنائی گئی ھے۔

سوال: ہم نے سنا تھا کہ ایک بار آپ لوگوں کو بیرونِ ملک اپنے فنکاروں کے ساتھ حرارے، زمبابوے، افریقہ میں ایک آرٹ فیسٹیول میں بلایا جا رہا تھا کہ کراچی ایئر پورٹ سے واپس کرایا گیا، اس میں کتنی صداقت ہے؟
حفیظ‌ کیازئی: بالکل اس میں سو فیصد صداقت ہے۔ 2019 کو حرارے زمبابوے افریقہ کے آرٹ فیسٹول میں دیگر 18 ممالک کے فنکاروں کے ساتھ ہمیں بهی مدعو کیا گیا تھا، جس کے لیے ابتدا میں سیلف فنانس کے تحت اکیڈمی نے آنے جانے اور دیگر اخراجات کے لیے 9 لاکھ روپے کے ویزے لگوائے اور آنے جانے کے ٹکٹوں کےلیے۔ آخر میں کراچی ایئر پورٹ پر امیگریشن والوں نے ہمیں اس فیسٹول میں نہ صرف جانے سے روکا بلکہ ہمارا تمسخر بھی اڑایا اور ان کے انداز سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ہمیں بلیک میل کر کے ہم سے رشوت مانگنے کے بہانے ڈھونڈ رہے تھے اور کہا کہ تم لوگوں کے ویزے بزنس ویزے ہیں۔ اس طرح ہمیں مایوس کر کے واپسی پر مجبور کیا گیا۔ حالاں کہ پہلے پہل ہم بہت خوش تھے، ہم ان کو اس بات پر قائل کرنے کی بڑی کوشش کر رہے تھے کہ ہم پاکستان کی نمائندگی کا عزم لے کر جا رہے ہیں۔ لیکن ہمارے اتنا سب کچھ کہنے کے باوجود وہ ہم پرتنقید کرتے رہے اور ہمارا تمسخر اڑانے اور بے توقیری پر اتر آئے تھے۔ ان کے اس سخت رویے سے اندازہ ہوا کہ وہ ہمیں مایوس کر کے دوبارہ صحراؤں، پہاڑوں اور سمندر میں جان بوجھ کر دھکیل رہے ہیں۔ایسا لگ رہا تها کہ وہ حاکم اور ہم محکوم هوں، وہ ہماری حوصلہ شکنی پر بہت خوش تھے۔

سوال: اکیڈمی کے قیام سے آپ لوگوں کو کیا فوائد حاصل ہوئے ہیں؟

حفیظ کیازئی: جو لوگ مخلص ہوتے ہیں وہ اکیڈمی کے فوائد سے بالاتر سوچ رکھتے ہیں، ان کی ایک اعلیٰ سوچ ہوتی ہے، ایک شوق اور ایک جنون ہوتا ہے۔ اکیڈمی نے اپنے فنکاروں کو سوسائٹی سے متعارف کرایا ہے۔ وہ فنکار سوسائٹی کو بہتر پیغام دے کر لوگوں کو شعور و آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو بہتر انٹرٹینمنٹ بھی فراہم کر رہے ہیں۔ بلوچ سوسائٹی اور معاشرہ اس سے بہتر شعور و آگاہی حاصل کرتے ہیں یا کسی خاص سوچ کو تقویت پہنچاتے ہیں تو وہاں ایسے مرحلے آ جاتے ہیں جو کہ لانگ ٹرم یا دیرپا منصوبے ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اکیڈمی میں فنکاروں کو نکھارنے ان کی“ صلاحیتوں کو پالش کیا جاتا ہے۔

ہم اپنے معاشرے میں اس اکیڈمی کے توسط سے بہتر اور مثبت تبدیلیوں کے خواہاں ہیں۔ اگر ہم آرٹ یا تھیٹر آرٹ کی بات کرتے ہیں تو تمام ان آرٹسٹوں کی دستگیری کرنا، انھیں وہ مقام دینا ہوتا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے کہ وہ آرٹسٹ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔

اکیڈمی ان کی زندگی کو ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو زندہ رکھ سکتی ہے۔ یہ فنکار ہمارے کل اثاثے ہیں، ان کوسنبھالنے، ان پر دستِ شفقت رکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کی تمام ضرورتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کو ملک و بیرونِ ملک اور دنیا کے مختلف کونے کونے میں ان کو بہتر پلیٹ فارم مہیا کرنا ہماری قومی و انسانی ذمہّ داری ہے۔ پھریہی اکیڈمیز ہی ہوتی ہیں جو ان کی فنکارانہ صلاحیتوں کو بہتر انداز میں پرموٹ کر سکتی ہیں۔ کسی قوم اور اس کے کلچر و سوسائٹی اس کے زبان و ادب کو بچانے کا ذریعہ یہی اکیڈمیز ہی ہوتی ہیں۔ یونان سے لے کر دنیا کے دیگر ممالک اور اسی طرح کئی پرانی کہانیوں کو انسانوں کے بہتر اوصاف ایک دوسرے سے منتقل ہوتے چلے آ رہے ہیں اور اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کا فریضہ سر انجام دیتی آ رہی ہیں۔

سوال: کم وسائل کے باوجود آپ لوگ کس طرح اس اکیڈمی کو بغیر مالی امداد کے چلا رہے ہیں؟
حفیظ کیازئی: مسائل، مصائب و مشکلات تو ہر کام میں پیش آتے ہیں، ان کو حل کرنے کے لیے جنون اور جواں مردی سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک نفسیاتی عمل ہے کہ اکثر لوگوں میں برداشت و ہمت کی کمی ہوتی ہے۔ وہ راستے میں اس کو چھوڑ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ اپنے مسائل کے حل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔ جب مسائل بڑھتے ہیں تو ہم میں زیادہ صلاحیتیں پیدا ہوتی ہے اور وہ ہماری صلاحیتوں میں اور زیادہ نکھار پیدا کرتے ہیں۔ ہم میں کچھ زیادہ حوصلہ پیدا ہوتا ہے، ہم میں پختگی پیدا ہوتی ہے اور مزید صلاحتیں جنم لیتی ہیں۔ دیگر علاقوں یا دیگر ممالک میں ان کے ادارے ایسے پسماندہ علاقوں کے فنکاروں کی مالی امداد کرتے ہیں، انھیں سرکاری سر پرستی حاصل ہوتی ہے، لیکن بد قسمتی سے یہاں ہمیں خود اپنی مدد آپ کے تحت وسائل پیدا کرنے پڑتے ہیں۔ ضلع گوادر مکران یا بلوچستان میں کئی بھی کوئی ایسا اداره موجود نہیں کہ وہ ہماری سر پرستی کرے۔ البتہ ہمارے آرٹسٹ خود کوآپریٹیو ہیں، وہ خود محنت کش اور مزدور ہیں یا ایسے بھی فنکار ہیں کہ وہ سمندر میں ماہی گیری کرتے ہیں یا کسی اور کام میں وقت نکال کر وہ اپنے فن پر بھی توجہ دیتے ہیں اور وقت نکالتے ہیں۔

کیا حکومتِ بلوچستان یا بلوچستان آرٹ اکیڈمی کی طرف سے کبھی کوئی مالی تعاون یا گرانٹ کی پیشکش ہوئی ہے یا کوئٹہ میں آپ کی اکیڈمی کو پرفارمنس کی دعوت دی گئی ہے؟
حفیظ‌ کیازئی: بالکل نہیں، ہمیں ایسی کوئی پیشکش نہیں ہوئی ہے، اور نہ ضلعی حکومت نے کبھی ہماری حوصلہ افزائی کی ہے۔
آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ گوادر شہر ایک پورٹ سٹی بن چکی ہے اسے سی پیک کا جھومر کہا جا رہا ہے لیکن ضلعی حکومت اور صوبائی حکومت کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ ہمیں موقع فراہم کریں، ہماری سر پرستی کا حق ادا کریں۔ اس شہر میں جنز آرٹ اکیڈمی موجود ہے لیکن جب بھی کئی بڑا ایونٹ ہوتا ہے تو کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے فنکار اور آرٹسٹ بلائے جاتے ہیں۔ گویا ہم مختلف اداروں کی نظروں سے اوجھل ہیں، یا ہماری جانب وہ آنکھیں موند لیتے ہیں۔ آج ہم ہیں کل ہم نہیں رہیں گے، ہمارا ادارہ رہے گا۔ ہماری خواہش ہے کہ ہماری آنے والی نئی نسل کو ایک بہترین اکیڈمی ملے، لیکن اب اس کے برعکس ہمارے فنکار و آرٹسٹ کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں، ہماری ضلعی و صوبائی حکومت کے پاس فنڈز کی کمی نہیں، خلوص نیت کی ضرورت ہے۔ زبان و ادب اور ہمارے فنکاروں کو حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔


سوال : آپ اس ملک اور خصوصاً بلوچ قوم کو، اپنے فن سے کیا پیغام دیں گے؟
حفیط کیازئی: آرٹسٹ اور فنکار قوم کے قیمتی سرمایہ یا اثاثے ہوتے ہیں۔ یہ کسی کی ملکیت نہیں ہیں، یہ بلوچ قوم کے فنکار ہیں۔ ان کو بلوچستان اور پاکستان کے مختلف اداروں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ انھیں بہتر صلاح و مشورے کی ضرورت ہے۔ اس میں ہمارے بہترین بلوچی زبان کے رائٹر، شاعر، ادیب اور دانشور ادب دوست سب اس زمرے میں آتے ہیں۔ یہ سب اس ملک و قوم کے انمول اثاثے ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں، ان کی حفاظت کریں، اس طرح ہی آپ ان کو زندہ رکھ سکتے ہیں، اگر ان کو نظر انداز کیا گیا تو نہ ادب رہے گا اور نہ بلوچ معاشرہ ترقی کے منازل طے کر سکے گی۔ اور ہاں بلوچ قوم کو تعلیم و ہنر و تربیت کے میدان میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، میل ہوں یا فی میل دونوں کو تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ بلوچ قوم تعلیم کے میدان میں بھی سرگرم ہو کر علم و ہنر سے بہرہ مند ہوں۔

LEAVE A REPLY