شریف ابراہیم

ملک بھر کی طرح دو ہفتوں سے جاری مسلسل لاک ڈاؤن سے گوادر میں کاروبار زندگی مفلوج، یومیہ اُجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، مائیگیروں اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ بھوک و افلاس کا شکار ہورہے ہیں حکومتی امداد نہ ہونے کی وجہ سے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگ بھیک مانگنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

دو ہفتوں سے جاری لاک ڈاون کی وجہ سے لوگ بھوک و افلاس کا شکارہو رہے ہیں. حکومتی امداد صرف واٹسپ اور ایس ایم ایس تک محدود ہے.اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مخیر حضرات اور این جی اوز بھی میدانِ عمل میں ظاہر ہورہے ہیں جو اپنی اپنی حیثت سے لوگوں کو ایک وقت کی روٹی مہیا کرنے میں کوشاں نظر آتے ہیں.

مبصرین کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن آجر اور اجیر کے لیئے انتہائی مشکلات کا سبب بنا ہوا ہے لاک ڈاؤن کو موثر بنانے کیلئے ریڑی بانوں کو بھی بند کردیا گیا ہے اور شہر میں کام کرنے والے دیگر صوبوں کے مزدور بھی مزدوری نہ ہونے کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہیں. جہاں تک کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیئے ایسے اقدامات کی ضرورت تو ہے لیکن ساتھ ساتھ شہریوں کو زندہ رکھنے کے لیئے بھی تمام تر سہولیات کی فراہمی بھی ضروری ہے.

گوادر میں ابھی تک کوئی بھی کرونا کا کیس سامنے نہیں آیا ہے لیکن عام شہری اس خوف میں مبتلا ہیں کہ غیر اضلاع سے لوگوں کی آمدورفت کی وجہ سے گوادر میں بھی کرونا کا وبا پھیل سکتا ہے۔حکومتی اعلان کی وجہ سے گوادر میں لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہے گئے ہیں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کر رہے ہیں۔ لیکن شہریوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے ہم معاشی مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے۔ انھوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کو موثر بنانے کے لیئے غریب طبقے کو راشن کے ساتھ ساتھ مالی امداد کی فراہمی کے لیئے عمل اقدامات کرے اگر حکومت عملی اقدامات نہیں کریگی تو شہریوں کے صبر کا پیمانہ جواب دے جائیگا.

LEAVE A REPLY