برکت بلوچ

کورونا وائرس کے پیش نظر پورے ملک کی طرح ساحلی شہرگوادر میں بھی لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے جس میں مخصوص شاپس کے علاوہ دیگر تمام چھوٹے بڑے کاروبارکے ساتھ سمندر میں شکار پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے. گوادر کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ماہیگیروں پر مشتمل ہے اس لئے اس لاک ڈاؤن کا ماہیگیروں کی معاش پر گہرے اثرات پڑے ہیں۔

ماہیگیر رہنما یونس انور نے پاک وائسز سے بات چیت کرتے ہوئے کہاہے حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے روک تھام کے لئے عائد لاک ڈاؤن کا سب سے زیادہ اثر ماہیگیروں پرپڑاہے، ماہیگیر گوادرکی آبادی کا 65 فیصد ہیں جو دیہاڑی دار مزدوروں کی طرح روزانہ کی بنیاد پر کماتے اورکھاتے ہیں۔ حالیہ لاک ڈاؤن کی ماہیگیروں نے بھی حمایت کی ہے لیکن حکومت کی جانب سے ماہیگیروں کو کسی بھی قسم کی ریلیف نہیں دیاگیا ہے جس کے باعث ماہگیروں کے چولہے بجھ گئے ہیں اور نوبت فاقوں تک آگئی ہے۔

گزشتہ روز چند ماہیگیروں نے بھوک کی شدت سے تنگ آکر دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرکے سمندر میں جانے کی کوشش کی جنھیں انتظامیہ کی جانب سے حراست میں لیاگیا۔ ایک طرف حکومت نے شکار پر جانے کی پابندی لگائی ہے اور دوسری طرف ماہیگیرو کو مکمل بے آسرا چھوڑ دیاگیاہے. حکومت کوچائیے ک ماہیگیروں کیلئے خصوصی ریلیف کاآغاز کرے کیونکہ بھوکے پیٹ تو کوئی بھی زندہ نہیں رہ سکتا

ان کامذید کہناتھا کہ گزشتہ دنوں مقامی انتظامیہ اور ماہیگیرنمائندوں کے درمیان مزاکرات کے زریعے گرفتار ماہیگیروں کو رہائی ملی ہے جبکہ گرفتار ماہیگیروں کی رہائی کیلئے خواتین اور بچوں نے دھرنا دیکر احتجاج بھی کیاتھا۔انتظامیہ اور ماہیگیروں کےدرمیان مزاکرات کے نتیجے میں انتظامیہ کی جانب سے ماہیگیری پر عائد پابندی بھی مشروط طورپرہٹادی گئی ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے ماہیگئروں کے لئے ایس او پی تیار کی گئی ہے جس کے مطابق شکار پر جانے کی اوقات صبح 06 بجے سے  لے کر شام 06 بجے تک ہوگی۔ ماہی گیروں کوگہرے سمندر میں جانے پر پابندی ہوگی. ماہیگیر صرف 5 ناٹیکل میل کی دوری پر شکارکرسکیں گے۔ شکار سے واپسی پر ماہی گیروں کی فش لینڈنگ (جی ٹی) پر ہجوم کی صورت میں اکٹھے ہونے پرپابندی لگائی گئی ہے۔ ماہیگیروں کو آپس میں ملنے اور ہاتھ ملانے سے بھی احتیاط برتنے کا کہاگیاہے. ماہیگیروں کو سمندر میں جاتے وقت ماسک کے استعمال پر بھی زور دیاگیاہے۔

ماہیگیروں کو فش ہاربر پہنچ کر فلوٹنگ جی ٹی پر لنگر انداز ہونے کے لئے اپنی باری کا انتظار کرنے کی تائید کی گئی ہے۔
ماہی گیروں کو فش ہاربر پر لگائے گئے فاصلاتی نشانات پر عمل کرنے کا بھی پابند بنایاگیاہے۔ ایس او پی کے تحت ماہی گیری کے لئے صرف چھوٹی کشتیوں کو اجازت دی گئی ہے اور کشتی میں 4 سے زائد افراد کے جانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے دیئے گئے ایس او پی پر ردعمل دیتے ہوئے ماہیگیرراہنما کاکہناتھا کہ وہ اس ایس او پی پر عمل درآمد کے پابند ہیں کیونکہ انھیں حالات کی نزاکت کا احساس ہے وہ صرف اتنا کمانا چاہتے ہیں کہ انکی دو وقت کے کھانے کا بندوبست ہو وہ اس سلسلے میں انتظامیہ کے ساته بهرپور تعاون کرینگے.

LEAVE A REPLY