عمران کمار

بہاولپور سے تقریباً 30 کلومیٹر پیچھے سے شروع ہو کر اندرون سندھ تک کے تمام چولستانی علاقوں میں بارشوں اور نہری پانی کی قلت کی وجہ سے یہاں کانا زیادہ مقدار میں اُگتا ہے۔

چولستان کے غریب لوگ اپنا گزر بسر کرنے کےلیے اس کی کٹائی کر کے چٹائی اور صفیں بناتے ہیں. یہ چٹائی اور صفیں چولستان اور دوسرے علاقوں کے لوگ مکانوں کی چھتوں میں استعمال کرتے ہیں۔

چٹائی اور صفیں کے علاوہ لوگ ان کانوں سے موڑے بھی بناتے ہیں. یہ موڑے خصوصاً پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں. چولستان میں ریت ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کی روزی روٹی کا انحصار چٹائی, صفیں اور موڑؤں کی فروخت پر ہوتا ہے۔

کرونا کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے یہ لوگ کاروبار بند ہونے سے پریشانی کا شکار ہیں. جو لوگ روزانہ کی اجرت پر گزارا کرتے تھے، انکے حالات بہت خراب ہیں اور نوبت فاقوں تک آگئی ہے۔

LEAVE A REPLY