جاوید ایم بی بلوچ
بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر کے ایک پسماندہ علاقہ ‘پشکان’ میں گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری اسکول کی ہیڈمسٹرس اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم انیلہ شمیم بلوچ کو ان کے خدمات کی بناء پر گزشتہ دنوں بین الاقوامی یوم خواتین کے سلسلے میں نساء انسٹیٹویٹ اور کلچر آن لائن کوئٹہ کی طرف سے ایوارڈ سے نوازا گیا.
انیلہ شمیم بلوچ نے پاک وائسز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سے انھیں مزید حوصلہ ملا ہے اور اپنے معاشرے کی ہر طبقے خصوصا نوجوانوں اور بچیوں کی تعلیم پر کام کرنا ان کا جنون ہے
انیلہ سمجھتی ہیں کہ پسماندگی اور ناخواندگی کی وجہ سے مسائل بہت زیادہ اور وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں مگر اس رونا رونے سے بہتر ہے کہ کام جاری رکھا جائے، وہ کہتی ہیں ” جس معاشرے میں لڑکی اور لڑکا پیدا ہونے سے گھر میں ہی مختلف تاثرات دیکھنے کو ملیں وہاں برابری کی حقوق کیسے تسلیم کیے جائینگے… اس فرسودہ فکر اور سوچھ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے”
میڈم انیلہ شمیم لڑکیوں میں ٹیلنٹ کے حوالے سے بتاتی ہیں ” اگر بچوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں تو پھر آپ دیکھینگے کہ لڑکیاں کس قدر آگے ہیں، پڑھائی کا میدان ہو تو امتحانی نتائج میں واضح دیکھا جاسکتا اور اسی طرح غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی لڑکیاں بالکل پیچھے نہیں ہیں اگر انھیں مناسب پلیٹ فارم دی جائے”
انیلہ شمیم سمجھتی ہیں کہ اول تو ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کے لیے میٹرک تک تعلیم ایک بہت بڑی بات ہے لیکن اگر کسی طرح وہ اس مرحلے تک پہنچ بھی جائیں تو اعلی تعلیم اس دور میں بھی ان کے لیے کسی خواب سے کم نہیں ہے، ایک تو اسکولز کالجز بہت کم ہیں اگر ہیں تو اسٹاف اور سہولیات کا فقدان ہے، اُن کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم اور حقوق کے لیے معاشرہ اور سوچھ کو بدلنے کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے
انیلہ پرعزم ہیں کہ لڑکیوں میں تعلیمی شوق اور بلوچ معاشرے میں دوچ(کھڑائی، دستکاری) کی مدد سے معاشی خودمختاری اور اعلی تعلیم کو جاری رکھنے کی اپنی مدد آپ کی صلاحیت موجود ہے تاہم وہ حکومتی اداروں سے ابھی بہت کچھ کرنے کی امید رکھتی ہیں

LEAVE A REPLY