رفیق چاکر

پنجگور کے علاقے پروم شکاری بازار گواش میں 1985 سے قائم پرائمری سکول 28 سال گزرنے کے باوجود بلڈنگ سے محروم ہے۔

جس بچے نے اپنی ابتدائی تعلیم اسی سکول سے شروع کی تھی اب وہی بچہ ٹیچر بن کر سکول میں اپنی ریٹائرمنٹ کا منتظر ہے لیکن سکول بلڈنگ اور پرائمری کے بعد مڈل بننے سے محروم ہے. پرائمری سکول شکاری بازار گواش کے بچے گزشتہ 28 سالوں سے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر حصول علم میں مصروف ہیں لیکن یہاں کے حکمران اور محکمہ کے زمہ داران اپنی زمہ داریوں سے غافل اس سکول کو دو کمروں کا ایک بلڈنگ دینے میں ناکام رہے ہیں۔

شدید گرمی اور سردی میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے بچے حکمرانوں اور محکمہ تعلیم کے زمہ داروں سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہونگے کہ ہمارا قصورکیا ہے کہ 28 سال بعد بھی ہمیں دوکمروں سے محروم رکھا گیا. سیاسی بنیادوں پر کروڈوں روپے تو خرچ کیے جاتے ہیں لیکن شکاری بازار کے معصوم بچے اس جدید دور میں ایک درخت کے سائے میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

بے سرو سامانی اور سخت موسم میں اس درخت کے سائے میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے بچے اور معزز استاد کی یہ تصویر ایک سوالیہ نشان بن گیاہے.اگر حکمران اور محکمہ کے زمہ داران ان بچوں کو ایک سایہ فراہم نہیں کر سکتے تو اُن کے تعلیمی میدان میں ترقی کے دعوے بے بنیاد اور تعلیمی انقلاب محض ایک ڈرامے اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔